30 مئی، 2014

چلم جشٹ“ کیلاش تہوار

 


”چلم جشٹ“ کیلاش تہوار
تحریر: ابن امین محمد زئی محکمہ اطلاعات ملاکنڈ خیبر پختونخوا

آج کل جب کہ انسانی مصروفیات بہت زیادہ ہو گئی ہیں اور صنعتی انقلاب کے بل بوتے پر انسانی ذہن نہایت گنجان حالات سے دو چار ہے۔ معاشی بد حالی خود ساختہ نمود و نمائش اور دنیاوی مقابلوں سے جنم لے چکی ہے، نے انسان کی معاشرت سوچ پر تنوع ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں انسان کو تفریح کے بارے میںسوچنا مشکل ہو گیا ہے اگرچہ تفریح انسانی زندگی کیلئے ایک ضروری جزو ہے۔ ہماری معاشرتی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے تحاشہ سہولیات کے ہوتے ہوئے بھی انسان تفریح کی تلاش میں تھک چکا ہے اور ہر وقت نت نئے ذرائع سے اپنی تسکین کیلئے کوشاں ہے۔
میڈیا نے دنیا کے معاشروں اور تہذیبوں سمیت معلوم کائنات کو انسا ن کے سامنے ایک سکرین پرلا کھڑا کر دیا ہے اور اگر سوچا جائے تو ہر معاشرے کے لوگ تفریح کو خرید و فروخت کے بازار میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ معاشرتی ترقی اور ”ہل من مزید“ کے اس دور میں چند ایک پرانی ثقافتیں آج بھی نہ صرف دوسروں کو تفریح فراہم کر رہی ہیں بلکہ خود وہاں کے باسی نسبتاً پر سکون زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاشرہ ثقافت پاکستان کے انتہائی شمال مغرب میں موجود ہے جس کو پوری دنیا کیلاش کے نام سے جانتی ہے۔ صدیوں پرانا یہ معاشرہ آج بھی بہت کم تبدیل ہو چکا ہے اور نہایت نازک حالات سے دوچار ہو کر سانس لے رہا ہے۔ تقریباً ہر انسان جو اس کے بارے میں علم رکھتا ہے یہی سوچ رہا ہے کہ اس کو ختم ہونا چاہیے یا اس کو بچانا چاہیئے یہی ثقافت کی بڑھائی ہے۔
تین تنگ گلی نما وادیوںمیں بسنے والے کیلاش کو اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یقینا تفریح کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔یہ لوگ صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہی روایات کو ایک مذہب کی طرح اپنائے ہوئے ہیں۔یہ لوگ دوسروں کو کتنا خوش رکھے ہوئے ہیں اور اپنی زندگی کس طرح انجوائے کر رہے ہیں اس کا اندازہ یا تو وہاں پر آنے والے سیاح لگا سکتے ہیں یا وہ لوگ خود۔پھر بھی ان لوگوں کے چندمواقع قابل دید ہیں۔ ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ۔
ان تقاریب میں نہایت اہمیت کی حامل ان کی جشن بہار تقریب ہے جو کہ وہاں پر موسم سرما کے اختتام پر اور بہار کی آمد کے موقع پر منائی جاتی ہے جس کیلئے یہ لوگ کافی تیاری کے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔ موسم کے اعتبار سے ان کی وادیوںکا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے کہ وہاں پر بہار کی کرنیں مئی کے مہینے میں بکھر جاتی ہیں اور یہی مہینہ ان کی بہار ہوتا ہے۔ ہر طرف سبزہ اور خوشبو پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ ندیوں اور دریاﺅں میں پگھلتی ہوئی برف کا شفاف پانی موج زن ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر سبز جنگلات کے بیچوں بیچ برفانی شیشوں سے روشنی منعکس ہوتی ہے جو کہ اس علاقے میں بہار کو نہایت قابل دید بنا دیتی ہے۔
کیلاشوں کی جشن بہار کو ”چلم جشٹ“ کہا جاتا ہے اور اس کو وہاں پر مذہبی تقریب کا مرتبہ حاصل ہے۔ یوں تو اس کی تیاری اور سوچ دسمبر کے مہینے کے آخری عشرے سے ہی شروع ہوجاتی ہے لیکن مئی کے مہینے کے دوسرے ہفتے سے یہ تیاریاں زور پکڑتی ہیں جبکہ اصل جشن جو کہ تین دن تک جاری رہتا ہے وہ14،15اور16 مئی کو ہی ہوتا ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے چند مخصوص خوراک تیار کی جاتی ہیں جس میں پہلے دن افتتاح کے طور پر دودھ بانٹنا ہوتا ہے۔ علاقے کے چند بزرک افراد بکریوں کا دودھ اکٹھا کرکے ایک مقام پر لاتے ہیں اور تمام لوگ وہاں جمع ہو کر اس دودھ کے حصول کیلئے انتظار کرتے ہیں۔ یہ دودھ ایک تبرک سمجھا جاتا ہے اور ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک گھونٹ دودھ ان کو ملے۔ سب سے پہلے نو مولود بچوں کو دودھ پلایاجاتا ہے پھر دوسرے عام بچوں کی باری آتی ہے اس کے بعد نوجوانوں اور پھر جوانوں اور بڑوں کو تھوڑا تھوڑا دودھ دیا جاتا ہے ۔تمام افراد کو دودھ پہنچا کر اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح ہوتا ہے۔ اس کے بعد مذہبی بزرگ کھلے آسمان تلے روٹی پکاتے ہیں جس کو بعد میں تمام افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس روٹی میں ہر قسم کے آٹے کے علاوہ علاقے میں پانئے جانے والے تمام میوہ جات بھی ڈالے جاتے ہیں جوکہ ایک سوغات بھی ہے۔ اب تمام لوگ بڑے چھوٹے مرد و زن سب مل کر مذہبی مقام ”جسٹک خان“ کے سامنے سے گزر کر ایک مخصوص میدان میں آتے ہیں جہاں پر خواتین ڈھول کی تاپ پر ناچنا شروع کرتی ہیں۔ مرد حضرات اور آنے والے سیاح مہمان ارد گرد بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں، داد دیتے ہیں، اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ عمل روزانہ شام ڈھلتے ہی تمام لوگ گھروں کو جاتے ہیں۔ اس مخصوص ڈانس کے دوران خواتین نہایت روایتی گانے گھنگناتی ہیں جس کے اہم پیغامات کچھ یوں ہوتے ہیں کہ قدرت نے ایک دفعہ پھر ان کے ہاں بہار لایا ہے۔ اب تمام علاقے میں سبزہ، پھل،پھول، میوہ جات نکل آنے لگے ۔ اس کیلئے اور ان کے جانوروں کیلئے خوراک پیدا ہوگا۔ انہیں اچھا موسم ملے گا وہ بابا کے دودھ خانے سے دودھ پئیں گے وغیرہ وغیرہ۔
کیلاش ثقافت کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ وہاں انسانی زندگی کا محور خاتون ہے۔ گھر کے تمام فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب یہ سب کچھ خواتین کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہاں کی خاتون ہی اس ثقافت اور تہذیب کی پہچان ہے۔ خواتین کا کالا لباس، سر پر مخصوص دم دار ٹوپی، گلے میں موتیوں کے ہار ہی انہیں پوری دنیا سے الگ پہچان دیتی ہے۔ ایسے ہی مذہبی اور ثقافتی امور خواتین انجام دیتی ہیں۔
چلم جشٹ کا آخری دن نہایت قابل دید ہوتا ہے۔ سہ پہر کو جب پورے کے پورے کیلاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتی ہے۔ تمام خواتین خواہ کسی بھی عمر کے ہوں ناچتی ہیں۔ مرداور تماش بین نظارہ کرتے ہوئے ارد گرد کھڑے ہوتے ہیں اس وقت مذہبی بزرگ ایک مقام پر اکھٹے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کے سبز شاخ اٹھائے ہوئے میدان کی طرف آتے ہیں۔ وہاں پر کچھ وقت گزارتے ہیں اور تمام خواتین ان کو سلامی پیش کرتے ہوئے داد لیتے ہیں۔ اب وہ آخری مرحلہ آتا ہے جو کہ دنیا کی کسی کونے میں نہیں ہوتا۔ یہ موقع محبت کا سر عام اظہار ہوتا ہے۔ اب جن جوڑوں نے ایک سال سے محبت کی ہے وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑتے ہیں اور اس لمحہ شادی کا اعلان ہوتا ہے۔ چند ہی لمحوں میں میدان سے کئی نوجوان جوڑے دوڑ کر نکل پڑتے ہیں۔ لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ہنستے ہیں، چیختے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔جب تمام جوڑے میدان سے نکل جاتے ہیں تو تمام شرکاءباری باری ان جوڑوں کے گھروں میں جا کر مبارک باد دیتے ہیں اور یوں بہار کا افتتاح ہو جاتا ہے۔ کیلاشوں میں تقریباً ہر شادی محبت اور ہم خیالی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ ایک خوبصورت داستان بھی ہے۔ 
کیلاش وادی میں تفریح کیلئے جانے سے بہت کچھ مزید بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تازہ ہوا، سرسبز و شاداب ماحول، پر خلوص اور مہمان نواز باسی، قدرتی مناظر ، ذہنی اور جسمانی سکون کے علاوہ وہاں پر آباد صدیوں پرانے اور سادہ مکانات جن میں کچھ آج کل بھی قابل استعمال ہیں اور جو فن تعمیر کا نہایت بہترین نمونہ بھی ہیں۔ مختصر اور کم خرچ مکانات نہایت ہوا دار اور سورج کی روشنی سے روشن بہت ہی پر سکون لگتے ہیں۔ ہر قسم کے موسمی اثرات اور قدرتی آفات سے محفوظ پرانے گھروں اور یہاں پر رہنے والوں کے اٹھنے، بیٹھنے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یقینا یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایک زندہ عجائب گھر ہے اور بس۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget