مئی 26, 2014

#UrduPoetry - Hujoom Mein Tha Woh Khul Kar Na Ro Saka Hoga Magar Yaqeen Hai K Shab Bhar Na So Saka Hoga

 

ہجوم میں تھا وہ کھل کر نا رو سکا ہوگا
مگر یقین ہے کے شب بھر نا سو سکا ہوگا

وہ شخص جس کو سمجھنے میں مجھ کو عمر لگی
بچھڑ کے مجھ سے کسی کا نا ہو سکا ہوگا

لزرتے ہاتھ ، شکستہ سی ڈور سانسوں کی
وہ خشک پھول کہاں تک پرو سکا ہوگا ؟


بہت اجاڑ تھے پاتال اسکی آنکھوں کے
وہ آنسوؤں سے نا دامن بھگو سکا ہوگا

میرے لیے وہ قبیلے کو چھوڑ کر آتا
مجھے یقین ہے یہ اس سے نا ہو سکا ہوگا


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget