18 مئی، 2014

("_") #UrduPoetry - مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جییسا ہے

 

ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے
مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جییسا ہے

یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات
مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہے

مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار
ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہے

بڑا طویل، نہایت حسیں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جیسا ہے

تو زندگی کے حقائق کی تہہ میں یوں نہ اتر
کہ اس ندی کا بہاؤ چناب جیسا ہے

تری نظر ہی نہیں حرف آشنا ورنہ
ہر ایک چہرہ یہاں پر کتاب جیسا ہے

چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ریت کی لہر
مرے خیال کا دریا سراب جیسا ہے

ترے قریب بھی رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خیال کا جلوہ حباب جیسا ہے

- See more at: http://www.myvoicetv.com/


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget