18 مئی، 2014

Wah! Kia khobsorat #UrduPoetry hai - مِل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا

 

مِل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا
دل کو کچھ دیر تو مصروفِ دعا رکھنا تھا

میں نہ کہتا تھا کہ سانپوں سے اَٹے ہیں رستے
گھر سے نکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا

بات جب ترکِ تعّلُق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر
دل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا

دامنِ موجِ ہَوا یوں تو نہ خالی جاتا
گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دیا رکھنا تھا

کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھُپا سکتے تھے
کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا

کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں؟
اپنا انداز تو اوروں سے جدُا رکھنا تھا

چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی؟
اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کھلا رکھنا تھا

اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دل کو محسن
اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا


- See more at: http://www.myvoicetv.com/



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget