جون 4, 2014

سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، دو افسران سمیت پانچ ہلاک

 

بی بی سی اردو :  بدھ 4 جون 2014 

پولیس کے مطابق حساس ادارے کے اہلکار معمول کے مطابق اپنے دفاتر جا رہے تھے


پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترنول کے قریب فتح جنگ روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں دو افسران سمیت کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق حملے میں سکیورٹی فورسز کی ڈبل کیبن گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

حملے میں لیفٹیننٹ کرنل ظاہر شاہ اور لیفٹیننٹ کرنل ارشد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق حملے میں تین عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

پولیس کے مطابق حملہ خود کش تھا اور اس کا نشانہ بننے والی گاڑی ایک حساس ادارے کی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ایک پیدل خود کش حملہ آور نے پھاٹک کے قریب گاڑی کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے قریب سے گزرنے والا ایک رکشہ بھی اس کی زد میں آ گیا۔

پولیس نے مطابق دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران، رکشہ ڈرائیور اور خودکش حملہ آور شامل ہیں۔

حملہ آور بھکاری
مقامی پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور ایک بھکاری کے روپ میں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ خودکش حملہ ہوا وہاں پر بھکاریوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہوتی ہے اور جونہی ریلوے کا پھاٹک بند ہوتا ہے یا گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی ہے تو بھکاری اُن گاڑیوں کی طرف بھاگتے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حساس ادارے کے یہ اہلکار معمول کے مطابق اپنے دفاتر جا رہے تھے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت ان کی گاڑی کے ہمراہ سکیورٹی کی گاڑیاں نہیں تھیں۔ تاحال عسکری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔

مقامی پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور ایک بھکاری کے روپ میں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ خودکش حملہ ہوا وہاں پر بھکاریوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہوتی ہے اور جونہی ریلوے کا پھاٹک بند ہوتا ہے یا گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی ہے تو بھکاری اُن گاڑیوں کی طرف بھاگتے ہیں۔

پولیس کے مطابق جونہی خودکش حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کے ڈرائیور نے رفتار کم کی تو خودکش حملہ آور نے خود کو اس گاڑی سے ٹکرا دیا۔

پولیس نے جائے حادثہ سے مختلف انسانی عضاء کو اکھٹا کرنے کے بعد اُنھیں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں منتقل کردیا ہے۔ پولیس نے خودکش حملہ آور کے حلیے اور اس واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ریلوے پھاٹک کے انچارج سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق تھانہ ترنول کی حدود میں قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے ترنول کے علاقے میں رہ رہے ہیں اور اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ان میں ایسے افراد کی بھی خاصی تعداد موجود ہے جن کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget