8 اگست، 2014

کلیات علامہ اقبال سے انتخاب ۔ کلام عہد طفلی

 

کلیات علامہ اقبال سے انتخاب ۔ کلام عہد طفلی


تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے 
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے 

تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے 
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے 

درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے 
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے 

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر 
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر 

پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر 
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر 

آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا 
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا​

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget