2 ستمبر، 2014

اردو شاعری: جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں

 




آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو 
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو 

جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں 
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ہو 

صندل سے مہکتی ہوئی پرکیف ہوا کا 
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو 

اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر 
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ہو 

جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر 
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جان نثار اختر

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget