اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 اکتوبر، 2014

Humiliation of foreign girls worker in Emirates - اماراتیوں کا غیرملکی ورکروں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک



منیلا (پاکستان) بہت سے فلپائنی، ایشیائی اور افریقی خواتین یو اے ای میں کام کرتی ہیں اور ان سب کی مشترکہ شکایت یہ ہے کہ ان سے ان کی استعداد کار سے زیادہ کام لیا جاتا ہے جبکہ اس نسبت سے اجرت نہین دی جاتی۔ اس کے علاوہ انہیں جنسی طور پر حراساں کیا جاتا ہے اور کہیں کہیں تو مالکان کی طرف سے مارپیٹ کی بھی شکایت سامنے آتی ہے اس ضمن میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ چونکہ ان ملازم خواتین کو سپانسر شپ کی بنیاد پر ملازمتیں دی جاتی ہیں اور جس کے ہاں یہ خواتین ملازم میں وہ ایک خاص مدت کا معاہدہ سائن کرواتے ہیں۔ پاسپورٹ ضطب کرلیتے ہیں ایسی صورت میں ان کے پاس ملازمت چھوڑ کر کہیں اور ملازمت کرنے کا موقع دستیاب نہیں ہوتا لہذا وہ اپنے اوپر ہونے مظالر کو برداشت کرتی رہتی ہیں۔ا س شکایت کو لے کر نیویارک کی ایک این جی او نے ایسی 99 متاثرہ خواتین کا انٹرویو کیا۔ ان میں سے 22 خواتین نے مارپیٹ کی شکایت کی اور کہا کہ انہیں چھڑیوں اور پائپون سے مارا جاتا ہے اور کبھی تھپڑوں سے منہ کو سجا دیا جاتا ہے۔ چھ خواتین نے جنسی استحصال کی شکایت کی۔ ایک ریکارڈ کے مطابق 146000 خواتین کام کررہی ہیں۔ ان مین سے زیادہ خواتین فلپائن، انڈونیشیا، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال اور ایتھوپیا سے آئی ہیں۔ انڈونیشیا کی ایک خاتون نے بتایا کہ اسے دن میں تواتر کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اس کے جسم پر زخموں کے نشان بھی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں