اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 اکتوبر، 2014

Reasons behind increasing rape cases جنسی زیادتیوں میں اضافے کی وجہ

 



نیودہلی: بھارت میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں بے پناہ اضافے کے بعد ان شرمناک جرائم کی وجوہات پر غور جاری ہے اور حکومتی اداروں اور خصوصاً پولیس سے سوالات پوچھے جارہے ہیں، لیکن پولیس نے اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے سارا الزام موبائل فون اور خواتین کے غیر مناسب لباس پر ڈال دیا ہے۔ سماجی کارکن لوکیش کھرانہ نے ریپ کے جرم میں سرفہرست ریاست اترپردیش کے 75 تھانوں سے یہ سوال پوچھا کہ خواتین پر جنسی حملوں کی وجوہات کیا ہیں۔ باسٹھ تھانوں سے موصول ہونے والے جوابات نے سب کو حیران کردیا۔ اکثر تھانوں کی طرف سے مغربی کلچر کی یلغار، میڈیا کے اثرات اور خواتین کے فحش لباس کو ان کی عصمت دری کی وجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ تقریباً تمام جوابات میں اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ موبائل فون جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے کرتے ہیں اور بات بڑھتے بڑھتے جنسی زیادتی تک جاپہنچتی ہے۔ فیروز آباد کے ننگل گھنگر تھانے کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیاں ایسا لباس پہنتی ہیں جو مردوں کو ان کی طرف کھینچتا ہے۔ مراد آباد کے پاکبارہ تھانے نے ٹی وی اور فلموں میں پیش کی جانے والی بے حیائی کو نوجوانوں کی بے راہ روی کا سبب قرار دیا ہے۔ اکثر تھانوں نے انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ویب سائٹوں کو بھی جنسی جرائم کی وجہ قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی تھانے نے یہ بات نہیں کی کہ ان جرائم میں اضافے کی ایک وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی اور بے بسی بھی ہے۔

اشاعت پاکستان

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں