13 نومبر، 2014

بے روزگار نوجوانوں کی بڑھتی تعداد عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ

The Pakistan Economy Watch (PEW) on Sunday said rising population of youth can become a global threat to political and economic stability if not tackled properly.

The situation would be critical in the developing countries housing 85 percent of the world’s young population, it said.

Unemployment has steadily been increasing in the young pushing them to crimes, extremism, illicit activities and narcotics which has a destabilising effect on societies and economies, said Dr. Murtaza Mughal, President PEW.

He said that governments and the private sector are not discharging their responsibilities to change the lives of those forced to live on the margins of society which is unfortunate.

Dr. Murtaza Mughal said that almost half of the global population is under 25, with 1.3 billion people are between the ages of 12 and 24 while most of them lack job or business opportunities.

Cities would become dens of crimes if policy measures were not taken immediately as global population will be 9.6 billion by 2050 with 70 percent people living in cities.

There were only 80 cities in the world with population over one million in 1950 while today the number is swelled to 480, he said.

Today, 70 percent population living in slums is below the age of 30 which finds no opportunity to come out of abject poverty.

According to ILO, 23 per cent of the employed youth gets less than one dollar a day inadequate to meet their basic requirements.

Dr. Murtaza Mughal said that youth are facing daunting economic and social challenges, including social exclusion, lack of economic opportunities, and limited access to resources which is frustrating them.

Youth should be provided education, training, employment and business opportunities to bring them into mainstream otherwise they would try other ways which would be devastating for economy and society.

Governments and the private sector has the ability to transform threat into opportunity, said Dr. Mughal.


بے روزگار نوجوانوں کی بڑھتی تعداد عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ 
 نوجوانوں میںغربت سیاسی و سماجی نظام کو غیر مستحکم کر رہی ہے
نوجوان امن، معاشی ترقی، فوڈ سیکورٹی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں

 پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ دنیا میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو عالمی امن اور سماجی ومعاشی ترقی کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔سب سے زیادہ اضافہ ترقی پزیر ممالک کے شہروںمیں ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں دنیاکے تمام نوجوانوں میں سے 85فیصد رہتے ہیں۔نوجوانوں میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے مگر اس سلسلہ میں حکومتیں اور نجی شعبہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا جو نوجوانوں کوغربت، عدم اطمینان،تشدد، جرائم، انتہا پسندی اورمنشیات کی طرف دھکیل کر کے ملکوں کے سیاسی و سماجی نظام کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میںکہا کہ اس وقت دنیا کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ 1.3ارب لوگوں کی عمر بارہ سے چوبیس سال کے درمیان ہے۔1950میںدنیا میں دس لاکھ سے زیادہ آباری والے شہروں کی تعداد 80 تھی جو اب 480ہے۔2050تک دنیا کی آبادی 9.6ارب ہو جائے گی جس میں سے 70فیصد افراد شہروں میں رہ رہے ہونگے مگر انکے روزگار کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہو گا۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہا آئی ایل او کے مطابق برسر روزگار نوجوانوں میں سے 23فیصد کو روزانہ ایک ڈالر سے کم اجرت دی جاتی ہے جس سے انکی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں۔یونیسیف کے مطابق ایک ارب افراد کچی آبادیوں میں رہتے ہیں جن میں سے ستر فیصد کی عمر تیس سال سے کم ہے ۔اگر نوجوانوں کو تعلیم، تربیت، سستے قرضوں وغیرہ کے زریعے غربت سے نکالنے کی حکمت عملی نہ بنائی گئی تو وہ خود اسکی کوشش کرینگے جو معاشرے اور معیشت کے لئے تباہ کن ہو گا۔

Press Release

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget