13 نومبر، 2014

پھر قصر جہانگیر ہے عدل سے خالی! دیوان خاص۔بیگ راج

پھر قصر جہانگیر ہے عدل سے خالی! دیوان خاص۔بیگ راج
شاہی قلعہ میں کہرام مچا ہوا تھا،حرم میں بیگمات سجدے میں پڑی دعائیں مانگ رہی تھیں ۔ ہر طرف ایک ہی پکار تھی کہ ملکہ کی جان بچائی جائے ۔ایک راہگیر کی جان کی کیا اہمیت تھی ۔چند ہرکارے جاتے اور مقتول کے اہل خانہ کو اٹھا کر ملک بدر کر دیتے ۔ مدعا رہتا نہ مدعی ۔کس کی مجال تھی کہ بادشاہ سلامت کے خلاف زبان کھولتا ۔ منصب داروں نے بادشاہ کو مشورہ بھی دیا کہ قاضی القضات نے فیصلہ سناتے وقت شاہی جاہ و جلال کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ عظیم ملکہ مسکینوں اور بیواو ¿ں کا بہت خیال رکھتی ہیں اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔آپ حضور فیصلے پر نظر ثانی فرمائیںکہ آپ تیموری نسل کے عظیم حاکم ہیں اور اختیارات کے سارے چشمے آپ کے اشارہ ابرو سے پھو ٹتے ہیں۔
یہ سولہویں صدی کی بات ہے ۔تب ووٹ نہیں بلکہ تلوار کے زور پر سلطنتیں قائم ہوتی تھیں اور ہندوستان میں تاریخ کی مضبوط ترین مغل سلطنت قائم تھی۔شہنشاہ ہندوستان مرزا نورالدین محمد جہانگیرؒ کی بادشاہت کا سورج چہار سو ضو فشانی کر رھا تھا۔کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں تھی۔ بادشاہ سلامت کی محبوب بیوی ملکہ ¿ نور جہاں نے قتل کر دیا تھا ۔ ملکہ شاہی محل کی چھت پر ٹہل رہی تھیںکہ کنیزاو ¿ں کے منع کرنے کے باوجود ایک راہ گیر قریب آکر گستاخ نگاہی کا جرم کر بیٹھا ۔ ملکہ کی غیرت جوش میں آئی، شست باندھی اور گولی چلا دی ۔ گستاخ وہیں ڈھیر ہو گیا ۔ مغل دربار میں جہانگیر کو اطلاع پہنچی ۔ بادشاہ غصے میں آگئے ۔ ملکہ سے دریافت کروایا کہ واقعی قتل کیا ہے ۔ملکہ نے اعتراف کیا اورقتل کا جواز پیش کیا ۔ بادشاہ نے قاضی القضات سے اس جرم کی سزا پوچھی۔قاضی نے بغیر کسی خوف کے بتادیا کہ قتل کے بدلے قاتل کی گردن اڑانے کا حکم ہے۔ سب درباری سہم گئے لیکن بادشاہ نے ملکہ کی گرفتاری کا حکم دیا اور شاہی جلادوں کو قتل کی سزا کے انتطامات کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ بھارت کے معروف اسلامی اسکالر مولانا وحیدالدین خان نے چند سال قبل اسلام اور انصاف کے مو ضوع پر بھارتی یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ مغل بادشاہ نے عدالت ، قاضی یا مدعی پر کسی طرح اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔
کہا جاتا ہے کہ ملکہ نے بادشاہ سے کہلوابھیجاکہ شرعیت میں قصاص لیکر معاف کردینا ایک افضل عمل ہے اور اگر مقتول کی بیوی اور بچے قصاص کی رقم لے کر معاف کردیں تو میری جان بچ سکتی ہے۔قاضی نے بھی اس امرکی تائید کی ۔ مقتول کے ورثا ¿ سے عدالت نے ان کی مرضی پوچھی۔ جب اطمینان ہوگیا کہ مقتول کے ورثا بغیر کسی دباو ¿ کے قصاص لینے پر آمادہ ہیں تو ملکہ نے ایک لاکھ درہم خون بہا کے طور پر پیش کر دیے۔ 
جب بادشاہ سلامت تخت نشین ہوئے تو پہلا حکم یہ دیا کہ وہ لوگ جنہیں حکومتی کارندوں ، قاضی یا عدالتوں سے انصاف نہ ملے ان مظلوموں کی دربار تک براہ راست رسائی کو ممکن بنایا جائے ۔انگریز سیاح ولیم ہاکنز اور نکولس ودھنکٹن نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ اس مقصد کے لیے ایک زنجیر ایستادہ کی گئی۔ چار من وزنی سونے کی اسّی فٹ لمبی یہ زنجیر تھی جس پر ساٹھ گھنٹیاں لگی ہوئی تھیں ۔ زنجیر کا ایک سرا شاہی خواب کے اندر اور دوسرا دریاے جمنا کے کنارے پتھر کے ایک چبوترے کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ مورّخین نے لکھاہے کہ زنجیر کو ہلانے اور گھنٹیاں بجانے کے لیے کوئی فیس نہیں لی جاتی تھی،کسی کو کوئی خوف نہیں تھا ،کوئی اندراج نہیں کرانا پڑتا تھا،کسی وکیل کی ضرورت نہیں تھی،امیر اور غریب ہر کو ئی دربار تک پہنچ سکتا تھا ،اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں تھا اور یہ زنجیر عدل فوری انصاف کا ایک قابل بھروسہ ذریعہ تھی۔اس کے علاوہ بادشاہ دن میں تین بار دربار لگاتے اور ہر کس وناکس کو فوری انصاف فراہم کرتے تھے۔یہی وہ عدل جہانگیری تھا جسے علامہ شبلی نعمانی منظوم نذرانہ پیش کیے بغیر نہ رہ سکے۔عدل و انصاف کے اس بادشاہ کی سات نومبر کو 387ویں برسی ہے۔
پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے لیکن انصاف آزاد نہیں۔ چیف جسٹس جب کبھی از خود نوٹس لیتے ہیں تو بریکنگ نیوز بنتی ہے اور جب کوئی بریکنگ نیوز آتی ہے تو از خود نوٹس کا راستہ کھلتا ہے۔ ایک چیف جسٹس کو پانچ سال میں چھیاسی مرتبہ از خود نوٹس لینا پڑے۔پاکستان کا ہر مظلوم شہری یہ دعاکرتا ہے کہ کاش کوئی چیف جسٹس اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا از خود نوٹس لے لیںکیونکہ انہیں عام عدالتی نظام سے فوری انصاف کی کوئی امید نہیں رہی۔ عدالتی ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں میں اب بھی لاکھوں مقدمات پہلی سماعت کے منتظر ہیں ۔عدالتوں کے پاس وقت نہیں ۔لوگوں کے پاس وکیلوںکو فیس دینے کے لیے پیسے نہیں اور انصاف کھلی مارکیٹ میں بکتا ہے ۔
سیاسی مخالفین حکمرانوں پر مغل بادشاہ ہونے کی پھبتی کستے ہیں ۔ کاش کہ کوئی حکمران مغل بادشاہوں جیسی اچھی حکمرانی کا نمونہ پیش کر سکتا۔ ہم کسی سے بھی جہانگیری عدل کی توقع نہیں رکھتے ۔ فوری اور سستے انصاف کاخواب خدا جانے کب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔کم از کم عدل جہانگیری کی نقل میں ایک سستا سا کام ہی کر دیں۔سونے کی نہ سہی لوہے سے بنی ایک زنجیریں وزیر اعظم ہاو ¿س ،وزرائے اعلیٰ اور چیف جسسٹس صاحبان کی خواب گاہوں کے اندر تک لے جائیں اور ان کے سرے چوکوں میں درختوں کے ساتھ باندھ دیں کہ سائیلین انہیں کھینچ کر دل بہلا لیا کریں ۔ خدا را فوری اور سستے انصاف کے لیے کوئی نیا نظام وضع کریں ۔ لوگوں کی زبان حال کہہ رہی ہے۔

پھر قصر جہانگیر ہے زنجیر سے خالی ۔۔ایوان کوئی عدل کے قابل نہیں ملتا
اس کوچہ وحشت میں ہم آباد ہیں جس میں۔مقتول تو مل جاتے ہیں قاتل نہیں ملتا

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget