5 نومبر، 2014

Conspiracy to destroy #Khowar language - چترال کی خوبصورت موسیقی اور میٹھی بولی پر یلغار


کراچی (ٹی او سی ۔ رپورٹ) دنیا کی کسی بھی قوم کو اُس کی زبان اور دیگر ثقافتی اقدار سے پہچانا جاتا ہے۔ بولی میں خوش گفتاری، خوش بیانی، نرم گفتگوزُبان کی مرہون منت ہے۔ چترال کی مقامی زبان کھوار اس کی بہترین مثال ہے۔ چترال کی موسیقی کو وہ لوگ بھی دل لگا کر سنتے ہیں جن کو کھوار (چترالی) زُبان نہیں آتی۔ کہوار زبان ضلع چترال کے علاوہ شمالی علاقہ جات کے ضلع غذر ، گوپس، یاسین، اشکومن،گلگت بلتستان،اوشو، کالام اور افغانسان کے ایک خاص علاقے میں بولی جاتی ہے۔ تاہم ہر علاقے کا لہجہ مختلف ہے۔

حالیہ دنوں میں دیکھا گیا کہ ایک مخصوص گروہ کھوار موسیقی اور زبان کے خلاف محاذ کھڑا کیا ہوا ہے۔ اور حد تو یہ ہوگئی جب مذکورہ گروہ نے ایک نیم غریان پختون لڑکی کو اپنے ساتھ شامل کرکے کہوار زُبان میں اپنے مخصوص لہجے میں گانے گانا شروع کیا۔ چترال کی پوری تاریخ میں آج تک چترال میں کوئی گلوکارہ پیدا نہیں ہوئی۔ مذکورہ گروہ کے سرغنہ چاہے کوئی بھی ہو۔ اس شطرنج کا مہرہ شیراز بادشاہ نامی گلوکار ہے۔ حالیہ دنوں میں اس گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو سونگ نے چترالی عوام اور خاص کر ادبی شخصیات پر سکتہ تاری کردیا ہے۔ گروہ کے خلاف چترالی عوام شدید غم و غصہ کا اظہار کررہی ہے۔ اور عوالی رہنمائوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزکورہ گروہ کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کرتی ہے۔ اوریہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ شیراز بادشاہ نامی اس نام نہاد چترالی گلوکار پر پابندی عائد کی جائے۔ 

(نوٹ: مندجہ بالا موضوع پراپنی آراء اور مضامین اگر شائع کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس ای میل ایڈریس پر بھیج دیں toc.newsdesk@gmail.com)

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget