اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

20 نومبر، 2014

Rape cases of prison women in Indian jail increased



نیودہلی (Daily Pakistan) بھارت میں خواتین کی عصمت دری کے جرائم نے اب جیلوں کا رخ بھی کرلیا ہے اور قیدی خواتین کو بھی بڑے پیمانے پر ہوس کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ کے مطابق ریاست کرناٹکا کی بدنام زمانہ پراپا اگراہارا جیل کی قیدی خواتین نے ریاست کے چیف جسٹس کو خطوط لکھے ہیں جن میں جیل میں جاری شرمناک جنسی مظالم سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

مقامی کناڈا زبان میں لکھے گئے دو خطوط میں انکشاف کیاگیا ہے کہ جیل میں بااثر افراد اہلکاروں کو 300 سے 500 روپے ادا کرتے ہیں جس کے بدلے میں انہیں قیدی خواتین ہوس پوری کرنے کیلئے پیش کی جاتی ہیں۔

خطوط میں بتایا گیا ہے کہ یہ جرم بڑے پیمانے پر ایک عرصے سے جاری ہے اور مظلوم قیدی خواتین کی آہ و بکا پر کوئی کان دھرنے والا نہیں ہے۔

اس سے پہلے یہ الزامات بھی سامنے آچکے ہیں کہ جیل میں طاقتور قیدیوں کو 10 سے 20 ہزار ماہانہ کرایہ پر خصوصی رہائش دی جاتی ہے جس میں ہر قسم کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی اجازت دی جاتی ہے۔ جیل حکام نے الزامات کو ماننے سے صاف انکار کردیا ہے اور الٹا یہ الزام لگادیا ہے کہ ان کے مخالف افسران نے جیل کو مزید بدنام کرنے کیلئے سازش کی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں