7 نومبر، 2014

Urdu Ghazal - Bosa-e-Khal ki qeemat بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے




بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے 
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے 

چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں
دو گھڑی کے لئے صیّاد زباں ٹھہری ہے 

آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک 
آگ نِکلی ہے لگا کر یہ جہاں ٹھہری 

ہے صُبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم 
نہ تِرے تیر رُکے ہیں نہ کماں ٹھہری ہے

دم نکلنے کو ہے ایسے میں وہ آجائیں قمر
صرف دم بھر کے لیے رُوح رواں ٹھہری ہے


اُستاد قمر جلالوی (1968-1887)

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget