اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

7 نومبر، 2014

Urdu Ghazal - سب لوگ لئے سنگ ملامت نکل آئے



سب لوگ لئے سنگ ملامت نکل آئے
کس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئے

اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو
آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے

ہر گھر کا دیا گل نہ کرو تم کے نہ جانے
کس بام سے خورشید قیامت نکل آئے

جو در پاٴ پندار ہیں ان قتل گاہوں سے
جاں دی کے بھی سمجھو کے سلامت نکل آئے

اے ہمنفسوں کچھ تو کہو عہد ستم کی
اک حرف سے ممکن ہے حکایت نکل آئے

یارو مجھےمصلوب کرو تم کے میرے بعد
شائد کے تمہارا قد و قامت نکل آئے

شعروسخن: احمد فراز (1931-2008)

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں