13 جنوری، 2015

Bol keh lab azaad hain tere, bol, zuban ab tak teri hai.....read full>>

 

بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے



دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں
تند ہے شعل، سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن


بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے


بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے!

فیض احمد فیض

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget