اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

18 اپریل، 2015

نسلی فسادات پھوٹ پڑے،4 گھنٹے کے دوران 70 غیر ملکی قتل

 


نسلی فسادات پھوٹ پڑے،4 گھنٹے کے دوران 70 غیر ملکی قتل

جوہانسبرگ (ندیم شبیر) ساؤتھ افریقہ میں نسلی تعصب پر مبنی فسادات پھوٹ پڑے، زینو فوبیا نامی کالوں کی ایک تنظیم نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا صرف چار گھنٹے کے دوران 70کے قریب غیر ملکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے زینو فوبیا نامی تنظیم کا یہ موقف ہے کہ غیر ملکی ہمارا ملک چھوڑ دیں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا مذکورہ تنظیم نے غیر ملکیوں کے سٹور ‘ دوکانیں ‘ اور دیگر کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا کئی ملین ڈالرز کا سامان بھی اٹھا لیا گیا اور فرار ہوتے ہوئے انہوں نے غیر ملکیوں کو فائرنگ اور چھرے گھونپ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ،پورے ساؤتھ افریقہ میں غم وغصہ اور خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے پاکستانیوں کی بھاری تعداد اپنی جان بچانے کے لیے وطن واپسی کے راستے ڈھونڈ رہی ہے حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ پولیس بھی بے بس نظر آ رہی ہے سرکاری ذرائع ابلاغ ساؤتھ افریقہ میں جاری نسلی تعصب کی بھینٹ چڑھنے والوں کی خبریں بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر غیر ملکی اپنے سفارتخانوں میں پناہ لینے کے لیے نکل پڑے ہیں ساؤتھ افریقہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن نے پاکستانی وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیں اور ان کی جان و مال اور املاک کو محفوظ کیا جائے علاوہ ازیں مذکورہ تنظیم زینو فوبیا سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک ہے مذکورہ تنظیم نے جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے تجارتی شہر جوہانسبرگ میں تباہی مچا دی ہے ڈربن کے قریب چار افراد کو ہلاک کر دیا گیا نفرت آمیز پیغامات سے تشدد کی ناقابل بیان لہر اٹھی ہے سب سے زیادہ تشددکا شکار صومالیہ کے لوگ ہوئے ہیں جبکہ اپنی جان بچا کر بھاگ جانے والے تارکین وطن جنوبی افریقہ کے ساحل پر ایک اہم بندرگاہ پر محفوظ کیمپوں میں پہنچ گئے ہیں تارکین وطن ایک دوسرے کو یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ زینو فوبیا آ رہا ہے جس کی وجہ سے خوف و ہراس اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ میں اس وقت پانچ لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں ۔ ساؤتھ افریقہ ‘ نسلی فسادات    ڈیلی پاکستان سے

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں