7 اپریل، 2015

بچوں کی دماغی صلاحیتوں پر والدین کی معاشی حالت کے اثرات (وی او اے)

 

بچوں کی دماغی صلاحیتوں پر والدین کی معاشی حالت کے اثرات (وی او اے)

امریکی محققین نے کہا کہ آمدنی اور دماغ کی ساخت کے درمیان تعلق خاص طور پر غربت زدہ ماحول میں پلنے والے بچوں میں نمایاں تھا اور آمدنی کے کم فرق کا بھی بچے کے دماغ پر نسبتا بڑا اثر تھا۔

لندن—مثل مشہور ہے کہ دولت سے خوشیوں کو خریدا نہیں جاسکتا ہے لیکن ایک نئے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی دولت بچوں کی دماغی صلاحیتیں 'خریدنے' کے قابل ہو سکتی ہے۔

اس نوعیت کی یہ پہلی تحقیق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ والدین کی غربت یا دولت بچوں کی دماغی ساخت پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی اور لاس اینجلس کے چلڈرن اسپتال کے ماہرین کے مشترکہ تحقیی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ امیر گھرانوں کے بچوں کا دماغ اپنے ہم عمر غریب بچوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا تھا۔

جریدہ 'نیچرل نیوروسائنس' کی رپورٹ میں ماہرین لکھتے ہیں کہ دولت مند ہونا دماغی قوتوں کو بڑھاتا ہے۔ نتیجے سے یہ بات سامنے آئی کہ امیر گھرانوں کے بچوں کے دماغ کا وہ حصہ جو تعلیمی کامیابیوں کے ساتھ منسلک ہے نمایاں طور پر زیادہ بڑا تھا۔

امریکی محققین نے کہا کہ آمدنی اور دماغ کی ساخت کے درمیان تعلق خاص طور پر غربت زدہ ماحول میں پلنے والے بچوں میں نمایاں تھا اور آمدنی کے کم فرق کا بھی بچے کے دماغ پر نسبتاً بڑا اثر تھا۔

ماہرین نے کہا کہ نتیجے سے ظاہر ہوا کہ بچوں کی تعلیمی کامیابیوں، ذہنی مہارت، منصوبہ سازی اور ملٹی ٹاسکنگ صلاحیتوں کے لیے والدین کی آمدنی ان کے پس منظر اور تعلیم سے کہیں ز یادہ اہم تھی۔

مطالعے میں تفتیش کاروں نے 1000 صحت مند بچوں اور نوجوانوں کے دماغ کے اسکیننر کی مدد سے معائنہ کیا اور ان کے پس منظر اور والدین کی تعلیم اور آمدنی کے حوالے سے معلومات اکھٹی کیں جبکہ 3 سے 20 برس کے نوجوانوں سے یاداشت اور منصوبہ سازی کی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک ٹیسٹ لیا گیا۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کے والدین کی تعلیم یونیورسٹی کی سطح کی تھی ان کے دماغ کا اہم حصہ ایسے بچوں کے مقابلے میں بڑا تھا جن کے والدین اسکول کی سطح تک تعلیم یافتہ تھے۔

تاہم محققین نے کہا کہ اس کے باوجود والدین کی آمدنی بچوں کی تعلیمی کامیابیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ اہم تھی۔ امیر بچوں کے دماغ کا وہ حصہ جو زبان اور منصوبی سازی کی صلاحیتوں سے منسلک ہے زیادہ بڑا تھا۔

تفتیش کار الزبیتھ سوویل نے کہا کہ ہمارے اعداد و شمار سے تصدیق یوتی ہے کہ وسائل کی وسیع رسائی جو امیر والدین فراہم کرسکتے ہیں اس کا نتیجہ بچے کے دماغ کی ساخت کے فرق کی صورت میں نکلتا ہے۔



انھوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ معیار کی بچوں کی نگہداشت، گھر پر سیکھنے کا مواد اور گھر سے باہر سیکھنے کے مواقع  ان اثرات میں سے کچھ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

بقول محقق الزبیتھ سوویل ایک ایسے گھر میں پرورش پانا جہاں ضروریات زندگی کی قلت کا اندیشہ نہیں ہے بچوں کو دباؤ سے آزاد کرتا ہے جس سے دماغ کی ترقی کو فروغ دینے کا امکان ہوتا ہے۔  

محقق کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ تفتیش کار کمبریلی نوبل نے کہا کہ نوجوانوں کے دماغ پر سماجی و اقتصادی حیثیت کے واضح اثرات جاننے کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ یہ تبدیلیاں ٹھیک کی جاسکتی ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ دماغ کی ترقی میں جینیات اور تجربہ دونوں اہم ہیں اور بچپنے میں تجربہ دماغ کی ترقی کے لیے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

خبر بحوالہ وائس آف امریکہ

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget