اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

24 اپریل، 2015

پاک چین کوریڈور، روٹ کی تبدیلی پر کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک وفاق پر برہم

 

کے پی کو پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہے اور چین سے ہونے والے معاہدوں سے صرف ایک صوبے (پنجاب) کو فائدہ حاصل ہوگا۔ پرویز خٹک

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور چین کے درمیان نئے قائم کئے جانے والے اقتصادی کوریڈور کے پروجیکٹ کو ریجنل پلان کے مطابق تعمیر نہ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف احتجاج کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں گے۔

یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ پروجیکٹ کے حوالے سے چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور یاداشتوں کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے پاک چین اقتصادی کوریڈور پروجیکٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پلاننگ کمیشن اور دیگر اہم اداروں سے رابطہ کیا گیا تاہم وہ تفصیلات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

وفاقی حکومت کے مذکورہ رویئے کے خلاف مشترکہ مفادات کونسل کی عدالت یا احتجاج کے شروع کرنے کے سوال پر پرویز خٹک نے کہا کہ وہ تمام طریقے اختیار کریں گے اور اس مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ گوادر سے کاشغر تک اقتصادی کوریڈور کا منظور شدہ راستہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہو کر گزرتا ہے تاہم خیبر پختونخوا کا یہ حصہ کوریڈور کی تعمیر کے نظرثانی شدہ نقشے سے نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان سے بھی کچھ ایسا ہی برتاؤ روا رکھا جارہا ہے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مذکورہ پروجیکٹ کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا تاہم اس میں بھی خیبر پختونخوا کی نمائندگی شامل نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ 'تمام عمل کےدوران ورکنگ گروپ کی تشکیل اور ناہی اس کی مشاورت میں کے پی حکومت کو شامل کیا گیا'۔
.
پرویز خٹک نے شکوہ کیا کہ نئے منصوبے کے تحت 8 نئے صنعتی زون قائم کیے جائیں گے، لیکن ان میں سے ایک بھی کے پی میں نہیں بنایا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کو پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہے اور چین سے ہونے والے معاہدوں سے صرف ایک صوبے (پنجاب) کو فائدہ حاصل ہوگا۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاہدوں میں چھوٹے صوبوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں