اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

9 جون، 2015

تجارتی راہداری کے ساتھ تین اضلاع دیر بالا ، دیر زیریں اور چترال کوبھی ملایا جائے: عنایت اللہ خان

 


چترال(ٹائمز آف چترال ویب ڈیسک)  صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے تینوں اضلاع چترال، دیر بالااور دیر زیرین کی سیاسی قیادت  سے کہا ہے  وہ  ان اضلاع کوپاکستان چین اقتصادی راہداری کے راستے سے ملانے کے لئے آواز بلند کریں۔  نئے منتخب ہونے والے ضلعی ، تحصیل اور گاؤں کی کونسلوں کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جغرافیائی محل وقوع اور چین کے قریبی  خطے ہونے کی وجہ سے ہنگامی حالات میں استعمال کے لئے ایک اور راستہ کی ضرورت ہے ۔ وسطی ایشیاکے گیٹ وے پر واقع ہونے کی بناء پر تینوں اضلاع پاکستان اور سنٹرل ایشنین ریجن  کے درمیان اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہ یہ بہترین موقع ہے کہ  تمام علاقائی رہنما اپنی سیاسی اختلافات دور کرکے  اس مقصد کے لئے کام کریں، اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تینوں اضلاع کو پاک چائنا راہداری سے منسلک کرنے کے لئے دبائون بڑھائیں، ایسا ہونے کی صور میں یہ پسماندہ علاقہ ترقی یافتہ علاقوں کے برابر آ کھڑ ا ہوگا۔   انہوں نے مزید کہاکہ  جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے یہ خیال پہلے ہی وزیر اعظم کی طرف سے طلب کئے جانے والے کل جماعتی اجلاس میں پیش کئے ہیں۔ 

عنایت اللہ خان  میں ہائیڈرو پاور جنریشن، معدنیات اور سیاحت، کے زبردست  مواقع موجود ہیں، مقامی حکومت  کے بننے سے ان کو فروع ملے گی۔  انہوں نے  نو منتخب ارکان سے کہا کہ وہ سیاسی محاذ آرائی سے گریز کریں  اور ترقی کے عمل کو چلنے دیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں