1 اگست، 2015

چترال کے بارے میں خوفناک پیش گوئی، لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئیں ہیں

 

چترال (ٹائمز آف چترال ۔ تحریر افسرخان) چترال کے کچھ اہم اور خوبصورت علاقوں جیسے ریشن، بونی، سنوغر، برنس، کوغذی دیگر کے بارے میں فوکس پاکستان نے کچھ سال پہلے اپنے سروے کے بعد پیش گوئی کی تھی کہ یہ علاقے گلیشئرکے بالکل ناک کے نیچے ہیں، گلیشئرزدراصل وہ قدرتی دیواریں ہیں جو بڑے بڑے قدرتی تالابوں کے لئے بندھ کا کام کررہی ہیں اور سخت ترین برف کی دیواروں کی وجہ سے یہ تالات قائم ہیں۔ موسمی تبدیلیوں جیسا کہ گلوبل وارمنگ (یعنی صنعتی ترقی اوربڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹس کے دھواں کی وجہ سے زمین کی حدت میں اضافہ میں اضافہ ہوجانے) سے یہ گلشئر پگھل جائیں گے یا ان میں دراڑیں پڑ جائیں گی جس کی وجہ سے ان کے اندر موجود پانی سیلاب کی شکل میں نکل جائے گا اور انتہائی خوفناک سیلابی ریلے کی شکل میں نیچے کی طرف آئے گا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر شئے کو بہاکرلے جائے گا، نیچے موجود دیہات کو صفہ ہستی سے مٹے دے گا۔

ماحولیات پر تحقیق کرنے والے اداروں اور سائنسدانوں نے بھی گلوبل وارمنگ اور اس کے نتیجے میں پیش آسکنے والی خطرات سے متنبہ کیا ہے۔

گلوبل وارمنگ دراصل ہے کیا؟

گلوبل وارمنگ کی مختصر تعریف یہ ہے۔ گلوبل وارمنگ دراصل زمین کے ماحول کی مجموعی درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہے عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ،کلوروفلوروکاربن CFCS، اور دیگر آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔

اس کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں آتی ہیں اور گرمی میں سخت گرمی اورسردی میں سخت سردی پڑے گی۔ اسی گرمی کی وجہ سے گلیشئرز پگھلتے ہیں، پہاڑوں میں موجود برف کی تہیں پگھتی ہیں اور دریائوں میں تغیانی کا سبب بنتے ہیں۔ بعض اوقات یہ گلیشئر اچانک ہی پھٹ جاتے ہیں جس سے انسانوں کو بھاگنے کا کم ہی موقع مل پاتاہے۔

اس کی ایک مثال چترال کے گائوں سنوغر میں آنے والا بد ترین سیلاب تھا۔ فوکس اور دیگر ماحولیاتی اداروں نے کچھ عرصہ قبل سنوغرکے گائوں والوں کو خبردار کیا تھا کہ گلیشئر میں دراڑ پڑ چکی ہے جوکبھی بھی پھٹ سکتا ہے اور یوں 29 جون 2007 کا یہ وہ سیاح ترین دن تھا، جب سنوغر کے اوپر موجود گلیشئرپھٹ گیا اور سنوغر کا خوبصورت گائوں بدترین سیلاب کی نذر ہوگیا۔

سال 2013 کو کون بھول سکتا ہے۔ جب بونی کے اوپربرف کی دیواروں سے بنا قدرتی تالاب کے گلیشئر پھٹنے سے بونی والوں پر قیات ڈھادی تھی۔ نہ صرف بونی بلکہ جونالکوچ، چرون اور دیگر نشیبی علاقے بھی اس سے متاثر ہوئے تھے۔ جونالکوچ میں لوئر بونی کو ملانے کے بنایا جانے والا جیپ ایبل پل کا نام نشان تک مٹ گیا تھا۔

کوئی بھی حکومت یا ادارہ ان قدری آفات کو روک تو نہیں سکتا مگرسائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ان قدرتی آفات سے املاک اور جانی نقصان سے تو بچایا جاسکتا ہے۔ مذکورہ دیہات جوکہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشئرپگھلنے سے قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ کو کسی محفوظ جگہ منقتل کرکے قیمتی جانیں اور املاک کو بچایا جاسکتا ہے۔ ان دیہات میں سیلاب کی وارننگ دینے والی آلات نصب کرکے گائوں والوں کو پیشگی اطلاع کا نظام بھی لگا دیا جانا چاہئے۔

گزشتہ روز خیبرپختونخواہ کے وزیراطلاعات مشتاق غنی نے میڈیا میں کہا ’’چترال میں مزید گلیشئر پھٹنے کاحدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ چترال میں مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کےماہرین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چترال میں گلیشئر پھٹنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے جس سے پورا چترال سیلاب میں ڈوب سکتاہے، موصوف کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اشیاء فراہم کی گئی ہیں۔

جہاں تک ہماری اطلاعات ہیں صوبائی حکومت کو چترال کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں تحریک انصاف کا شاید ایک ہی ایم پی اے ہے۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے یہ لوگ ملکی دولت وہاں لوٹاتے ہیں جہاں ان کو ووٹ ملتے ہیں۔ باقیوں کو بے یارومددگار چھوڑ دییتے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget