اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

10 اگست، 2015

امریکی ریاست ٹیکسس میں چھ بچوں سمیت آٹھ افراد کا قتل

 

کرٹیسی بی بی سی

امریکی ریاست ٹیکسس میں ایک گھر سے چھ بچوں سمیت آٹھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ان افراد کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

پولیس نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

فائرنگ کا تبادلہ اُس وقت شروع ہوا جب سنیچر کو پولیس نے ہیوسٹن کے علاقے میں ایک گھر میں بچے کی لاش دیکھ کر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

مذاکرات کے بعد اُس شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ ملزم ڈیوڈ کونلی کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔


ہیرس کاؤنٹی کی مقامی پولیس کے مطابق رات نو بجے کے قریب پولیس کی جانب سے کیے جانے والے ’گھر کے ایک فلاحی معائنے‘ کے نتیجے میں لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

پولیس کی جانب سے گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش پر گھر کے اندر سے ایک شخص نے فائرنگ شروع کردی تھی۔

’بظاہر قاتل اور ویلری کے درمیان تنازعہ، ان ہلاکتوں کا محرک بنا‘

لاشوں کو شناخت کر لیا گیا ہے جن میں، 50 سالہ ڈیوین جیکسن، ان کی اہلیہ 40 سالہ ویلری جیکسن اور بچے ، 13 سالہ نیتھنیل، 10 سالہ ڈیوین، 11 سالہ اونسٹی، نو سالہ کیلِب، سات سالہ ٹرینِیٹی، اور چھ سالہ جونا شامل ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ نِیتھنیل 48 سالہ کونلی اور ویلری جیکسن کا بیٹا تھا۔

مقامی پولیس کے نائب سربراہ ٹم کینن نے بتایا کہ ’ ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کیا محرکات ہوسکتے ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص اتنی معصوم جانیں لے سکتا ہے خاص طورپر بچوں کی۔

’بظاہر قاتل اور ویلری کے درمیان تنازعہ، ان ہلاکتوں کا محرک بنا۔‘

کونلی بغیر ضمانت اس وقت حراست میں ہیں۔

اس سے قبل حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ایک گھر سے پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کونلی سنہ 1988 سے مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

اے پی نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ان پر اپنے رشتے دار پر حملہ کرنے کا الزام بھی لگا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں