18 اگست، 2015

وسطی ایشیائی گلیشیئرزتیزی سے پگھل رہے ہیں، ہائیڈرو پاورز اور زراعت کے لئے شدید خطرات

 

کراچی (افسر خان۔ ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ) عالمی شرح اوسط کے مقابلے میں 4 گنا تیزی کے ساتھ وسطی ایشیائی پہاڑوں میں موجود گلیشئرزسکڑگئے ہیں۔ گلیشر ز کے اس قدر تیزی کے ساتھ پگھلنے کے عمل سے دریاوں کے بہائوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ سائنسدانوں نے اس امر کو مغربی چین سے ازبکستان تک کی زراعت اور ہائیڈرو پاورزکے لئے شدید ترین خطرہ قرار دیا ہے۔ 

GFZ جرمن ریسرچ سنٹر کی قیادت میں ہونے والے ایک مطالعہ کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشرز کے پگھلنے کا یہ عمل مزید تیز تر ہوجائے گا، اور 2050 تک باقی ماندہ گلیشرز کا آدھا حصہ پگھل جائے گا۔ ان مقامات پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ شمالی پیسیفک اور بحراوقیانوس میں موسمیاتی تبدیلوں سے منسلک ہے۔ تیان شیان میں گرمیوں میں بارشوں اور گلیشرز کے پگھلنے سے دریائوں کے پانی میں اضافہ ہورہاہے۔

یہ پگھلائو "خاص طور پر تشویش" کا حامل ہے، سائنسدان نیچر جیوسائنس میں لکھتے ہیں کہ علاقے میں تیزی سے مقامی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اور مقامی لوگ پہلے ہی پانی کی تقسیم پر تنازعات کا شکار ہیں۔

تیئن شان رینج، جن کے گلیشیرز یورپ کی الپائن جو 8 الپائن ممالک کے درمیان 1200کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے سے 7 گنا بڑے علاقے پر مشتمل ہے یا ہمالیہ کے ایک تہائی کے۔ 2500 کلومیٹر یا 1500 میل تک وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے۔ 

مصنوعی سیارے سے لی گئی اعداد شمار اورزمین کی مانیٹرنگ کے مطابق1961سے 2012 تک تیئن شان گلیشیرز نے کل پیمانے کا 27 فیصد کھو دیا ہے، یعنی 5.4 ارب ٹن برف ایک سال اور گلیشیرز پگھلنے کی عالمی اوسط شرح یعنی 6.5 فی صد کے مقابلے میں 4 چار گنا زیادہ برف کھودیا ہے ۔

جب تک گلیشر ز موجود ہیں اور اسی مقدار میں پگھل رہے ہیں تو دریاوں میں بہائو بڑھتا جائے گااور یہ عمل گلیشرز کے پگھل کر غائب ہوجانے تک رہے گا۔

ڈینیل فیرینوٹی ،GFZ میں مطالعے مصنف اور سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ برائے فارسٹ اینڈ لینڈ سکیپ ریسرچ کے اہم مصنف نے رائٹرز کو بتایا کہ "فی الحال ہم نسبتاً زیادہ پانی کے ساتھ، گولڈن مرحلے میں موجود ہیں"

"لیکن جوہونے والا ہے بہت تشویش کی بات ہے۔"

پہاڑوں سےنشیب کی طرف آنے والے پانی سے دنیا کےسب سے بڑے سیرابی علاقے قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان،اور چین کے شمال مغربی سنکیانگ خطے کے نشیبی علاقوں میں فصلیں اگاتے ہیں ۔ 2012 میں ازبک صدر اسلام کریموف نے کہا تھا کہ وسطی ایشیا کے پانی کے وسائل کے تنازعات بڑھ کر بڑی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہیں ۔ قازقستان میں پانی سردیوں میں ہائیڈرو پاور کی پیدار کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ ازبکستان سردیوں میں پانی کو ذخیرہ گاہوں جمع کرکے گرمیوں میں دیگرفصلیں اورروئی اگانے کےلئے پانی کی فراہمی کو ضروری سمجھتا ہے۔

(یہ اسٹوری رائٹرز کی انگریزی سٹوری کا اردو ترجعہ ہے۔ ) 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget