اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 اگست، 2015

چترال کے بالائی علاقے گرین لشٹ میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے ایک خاتون جاں بحق۔کئی لوگ بے گھر

 

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے گرین لشٹ ایک بار پھر سیلاب کی ضد میں آیا ہے۔ اس گاؤں کو دو طرح سے سیلاب نقصان پہنچا رہا ہے۔ نیچے سے دریائے مستوج نے اس گاؤں میں کافی مکانات، دکانیں اور زیر کاشت زمین کاٹ کر دریا بُرد کیا ہے جبکہ اوپر سے ریشن نالہ سے اس گاؤں پر سیلاب نے قیامت صغرا برپا کردی۔



حالیہ سیلاب میں اس گاؤں میں پچیس گھر تباہ ہوئے جبکہ ایک خاتون جاں بحق ہوئی۔ متاثرہ لوگوں نے ایک سرکاری سکول اور جماعت حانہ میں پناہ لی ہوئی ہے۔ ایک مقامی شحص کا کہنا ہے کہ جب سیلاب آیا تو میری بیوی جانوروں کو آزاد کروانا چاہتی تھی جو کمرے میں بندھے ہوئے تھے مگر سیلاب کے بے رحم موجوں نے اسے بہاکر لے گیا اور دور جاکر اس کی لاش ملی۔ 

انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہم حیمہ میں رہ رہے ہیں اور ہمارے ساتھ کوئی امداد نہیں ہوا ہے۔ آس پاس کے لوگ رضاکارانہ طور پر ہمارے لئے کھانا لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہمارے ساتھ مالی طور پر امداد کرے تو ہم اپنا گھر دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہوسکے گے۔ یہ لوگ بے یارومدد گار سکول کی اس عمارت میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار نے ہمیں صرف آٹھ ٹنٹ (خیمے) اور پچیس کمبل دئے ہیں اور ہمیں علاج معالجے کی بابت بہت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یہاں نہ تو کوئی ہسپتال ہے نہ کوئی ڈاکٹر یا ڈسپنسر موجود ہے ہمیں ادویات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ سیلاب کے بعد اکثر لوگ گندہ پانی پی کر پیٹ کے بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں