29 ستمبر، 2015

افغانی اور پاکستانی کوئی بھائی بھائی نہیں ہیں: افغان صدر اشرف غنی

 

افغانستان (ٹائمز آف چترال رپورٹر) افغان صدر نے ثابت کردیا ہے کہ افغانی پاکستان کے ساتھ کتنے نمک حالال ہیں۔ دسمبر1979 میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور افغانیوں کو جان بچانے کے لئے جگہ نہ ملی تب پاکستان نے مسلم ہونے کے ناطے بھائی چارگی کا ثبوت دیتے ہیوئے لاکھوں پناہ گزین افغانیوں کو پناہ دی۔ ان پناہ گزینوں کو پاکستانی قوم اور حکومت نے وہ حقوق دے دیئے جو ایک پاکستانی کو حاصل ہیں۔ ملک میں ان کو ہر طرح کے کاروبار کی اجازت بھی دے دی گئی۔ گو کہ ان کی وجہ ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا اور پاکستان 20 سے زائد سالوں تک ان کا بوجھ اٹاتا رہا اور آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین ملک پر بوجھ بنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے کروڑوں پاکستانی بے روزگار ہوگئے۔ یہ نہ صرف کاروباروں پر بلکہ کم اجرت میں ملازمتوں پر بھی قابض ہوگئے۔ اور ہم بھائی سمجھ کو ان کو برداشت کرتے رہے۔ اور آج یہ لوگ بھارت اور اسرائیل کو لیکر ہمیں آنکھیں دکھارہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانیوں کا دل ہی توڑ دیا۔ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویوں مین انہوں نے کہ پاکستانی اور افغانی کوئی بھائی بھائی نہیں ہیں۔ نریندرمودی اور بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں چلنے پھرنے والے اور مودی کی زبان بولنے والے غنی بھی کرزئی سے کم نہ نکلے۔ پاکستان کی ساری وفاداریاں بھول گئے۔ 

غنی نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح موقف اپنانا چاہئے، دہشت گرد چاہئے افغانستان میں ہوں یا پاکستان میں۔ دہشت گردوں میں کوئی چھا یا برا نہیں ہوتا۔ اشرف غنی پاکستانی فوج کی قربانیاں نظر نہیں آرہی ہیں۔

غنی نے یہ بھی الزام لگا یا کہ پاکستان 13 سالوں سے افغانستان میں مداخلت کررہا 
ہے اسی وجہ سے افغانستان میں دیر پا امن نہ آسکا ہے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget