اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

18 دسمبر، 2015

چترال کے بالائی علاقہ کارگن تباہ کن سیلاب سے بری طرح متاثر۔ متاثرین ابھی تک حکومتی امداد کے منتظر

 


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقہ کارگن اور چوئنچ چند ماہ قبل سیلاب سے برح متاثر ہوا ہے۔ دریا کے کنارے آباد ایک معذور جوڑے کا گھر بھی سیلاب نے معاف نہیں کیا۔ ایک طرف اس علاقے کو سیلاب نے تباہ کیا تو دوسری طرف زلزلہ نے بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔

اس علاقے میں دریاکے کنارے میاں بیوی کو دیکھا گیا جو اپنا تباہ شدہ مکان خود بنارہے ہیں اتفاق سے دونوں معذور بھی ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ہوا تو معذور خاتون نے اپنی توتلے زبان میں کہا کہ ابھی تک ان کے ساتھ نہ تو کوئی امداد ہوا ہے نہ ہی کوئی پوچھنے آیا ہے۔

علاقے کے ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ پچھلے سیلاب نے اس علاقے کو بہت نقصان پہنچایا ۔ یہاں سے 45 گھرانے نقل مکانی کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل ہوئے جبکہ سیلاب نے یہاں سینکڑوں ایکڑ زیر کاشت زمین کو بھی سیلاب بہاکر لے گیا اور اب وہاں دریا بہتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ناروے فنڈ سے چلنے والے CIADP نامی غیر سرکاری ادارے نے پہاڑ کی حفاظت کیلئے دریا میں تو حفاظتی پُشت بنایا ہے مگر آبادی کو بچانے کیلئے کچھ بھی نہں کیا الٹا اس حفاظتی پشت نے دریا کا رح موڑتے ہوئے آبادی کی طرف کردیا جس سے کئی گھر اور زمین کٹاؤ کی وجہ سے حراب ہوئے۔

کارگن کے ایک کونسلر کا کہنا ہے کہ سیلاب نے اس علاقے میں تباہی مچائی مگر اتفاق سے ابھی تک کسی نے ان لوگوں کا حال احوال تک نہیں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے اس وادی کو سیلاب سے بچانے کیلئے فوری طور پر حفاظتی پُشت اور دیوار تعمیر کروائی تو یہ علاقہ مزید نقصان سے بچ سکتا ہے ورنہ ایک اور سیلاب کی صورت میں اس بستی کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔

متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس علاقے کو مزید سیلاب کی تباہی سے بچانے کیلئے دریا میں حفاظتی بند تعمیر کی جائے اور پانی کا رح پہاڑ کی جانب موڑ دیا جائے۔ نیز جن لوگوں کے گھر بار تباہ ہوئے ہیں ان کے ساتھ مالی مداد بھی کی جائے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں