10 دسمبر، 2015

چترال کا افغانستان سے الحاق : خبر پرانی ہے مگر۔۔۔۔ آپ اس خبر پر تبصرہ کریں

 

حکومتی رویہ نہ بدلا تو ملک چھوڑ کر افغانستان سے الحاق کرلینگے، رکن قومی اسمبلی چترال

اسلام آباد (طاہر خلیل) چترال سے قومی اسمبلی کے رُکن شہزادہ محی الدین نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے علاقے کے عوام کے ساتھ یہی رویہ جاری رکھا تو ہم ملک چھوڑ کر افغانستان چلے جائیں گے اور افغانستان کے ساتھ الحاق کر لیں گے جہاں ہمارے قدرتی راستے موجود ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لواری ٹنل کی بندش سے 8ہزار افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں جس وجہ سے سینکڑوں افراد کی زندگی خطرے میں ہے،ہمارے حقوق پامال ہو رہے ہیں،کوئی پرسان حال نہیں، وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھے مگرکوئی جواب نہیں ملا، چترال سے قومی اسمبلی کے رُکن شہزادہ افتخار محی الدین نے ہفتے کو نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار کے لگ بھگ گاڑیاں لواری ٹنل کی بندش کی وجہ سے رکی پڑی ہیں جس سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل بھی بند ہے، صرف تین گھنٹے کیلئے لواری ٹنل کھولی جاتی ہے، 11 کلومیٹر طویل لواری ٹنل کی تعمیر کا 60 فیصد کام رکا پڑا ہے کیونکہ سالانہ 3 سے 5 ارب روپے کی ضرورت ہے جبکہ حکومت ایک ارب روپے فراہم کر رہی ہے۔ ٹنل کے اندر پانی جمع ہے، گاڑیوں کا دھواں نکالنے کیلئے ایگزاسٹ بھی نہیں، راستہ کچا اور گھپ اندھیرا ہے، اس میں سفر انتہائی پُرخطر ہے لیکن جو لوگ علاج معالجے یا مُردوں کی تدفین کیلئے جانا چاہتے ہیں ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ایم این اے افتخار محی الدین اپنے عوام کی اس بے بسی پر رو دیئے اور کہا کہ ہمارے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں، 3ماہ سے وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھ رہا ہوں کوئی جواب نہیں مل رہا، میں ایم این اے ہوں مگر ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ شہزادہ افتخار محی الدین نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے یہی رویہ جاری رکھا تو ہم افغانستان چلے جائیں گے وہاں ہمارا قدرتی راستہ موجود ہے۔


Source: Jang

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget