4 جنوری، 2016

جس عدالت کے باہر باپ چائے بیچ کے پڑھایا،بیٹی اسی عدالت کی جج بن گئی

 


نئی دہلی(ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک ) سچ ہی کہتے ہیں محنت اور محنت اور ثابت قدم رہ کر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سریندر کمار ایک چائے بیچنے والے کے طور پر تمام زندگی بتا دی۔ سریندر جالندھر (پنجاب) کے ناکوڈور شہر میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت کے احاطے میں چائے فروخت کرتے ہیں۔ اور اپنے بچوں کو پڑھاتا تھا اور یہی خواب دیکھ رہا تھا کہ ایک دن اسی عدالت اس کی اولاد جج بن جائے۔ 



بس ہر باپ کی طرح سریندر کا بھی ایک خواب تھا کہ اس کی بیٹی بھی کوئی ایسا بڑا کام کرجائے کہ جس سے اس کا سرفخر سے بلند ہو اور وہ اس پر فخر کرے۔ لیکن وہ یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ اس عدالت کی جج بن جائے جس کے سامنے وہ ساری زندگی چائے بیچ کر گزاری۔ 

سریندر کی 23 سالہ بیٹی شروتی پہلی کوشش میں ہی پنجاب سول سروسز (جوڈیشل) امتحان پاس کیا، اور اکیڈمی میں ایک سال کی تربیت کے بعدوہ اسی عدالت میں ایک جج کی پوزیشن پر آبیٹھیں۔ 

میڈیا سے بات کرتے ہوئے شروتی نے کہا کہ یہ ایک خواب تھا جو حقیقت کا روپ دھار لیا۔ میں ہمیشہ قانوں کے پیشے سے منسلک ہونے کا سوچتی تھی اور میں ایک جج بننا چاہتی تھی۔ میں امتحان میں بیٹھی اور سپریم کورٹ کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 

راجیا سبھا کے ایم پی اور بی جے پی کے نائپ صدر اویناش رائے کھنا نے شروتی کی کامیابی کو پنجاپ کے لئے ایک اعزاز قرار دیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget