جنوری 6, 2016

لواری ٹنل منصوبے میں بڑی بے ضابطگیوں کا انکشاف، ٹھیکہ دار کی موجیں

 


اسلام آباد (ٹائمز آف چترال 6 جنوری 2016) لواری ٹنل پروجیکٹ جہاں چترالیوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے وہاں یہ ٹھیکہ داروں، نوکر شاہیوں اور سیاستدانوں کے لئے کمائی کا وسیلہ اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعے بھی بن چکا ہے۔ 

پروجیکٹ کی حالیہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 9816 ملین روپے(9.816 ارب روپے ) کے لواری ٹنل منصوبے میں بڑی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں ۔ یہ منصوبہ چترال کو سال کے تمام موسموں میں ملک کے باقی حصوں سے ملانے کے لئے شروع کیا گیا تھا جو اس سے پہلے موسم سرما میں 4 ماہ کے لئے ملک کے دیگر علاقوں سے کٹ کے رہ جاتاتھا۔

آڈٹ کے ڈائریکٹر جنرل مقبول گوندل کے مطابق نگرانی اور جیو ٹیکنیکل انسٹرمنٹ سروسز ، جیو ڈیٹا ۔ایک ایسی کمپنی کو دی گئی تھیں جس کا مالک لواری ٹنل منصوبے کے کنسلٹنٹ کے بیٹے ہیں ۔ مقبول گوندل نے پبلک اکاونٹ کمیٹی کو بتایا کہ کنسلٹنٹ ٹھیکیدار کے بلوں کی توثیق کرتے اور بعض کاموں کی تکمیل کے سرٹیفیکیشن دیتے تھے ۔ رپورٹ نے نشاندہی کی کہ ٹھیکہ دار کو خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور غیر ملکی کرنسی ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ آڈیٹر نے بتایا کہ ٹھیکیدار لاگت بڑھنے یا قیمت میں اضافے کا دعویٰ بھی کر سکتا تھا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹھیکہ دار نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے 30.9 کروڑ روپے بھی نہیں دیئے ہیں۔

8.75 کلومیٹر کا لواری ٹنل ستمبر 2005 میں دوبارہ شروع کیا گیا تھا اور منصوبے کی تکمیل کی مجوزرہ تاریخ اکتوبر 2017 رکھی گئی تھی۔ منصوبہ پر کل 5428 ملین روپے (5.428 ارب روپے ) کی لاگت آنی تھی مگر بدقسمتی سے اب تک اس منصوبے پر 9816 ملین (9.816 ارب ) لگ چکے ہیں اور نامکمل ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget