12 جنوری، 2016

سیپیک CPEC راستے کو چترال سے گزارنے کا مطالبہ


چترال (نمائندہ ٹائمز آف چترال ) مگزشتہ جمعرات کو یہاں چترال میں میں چترال چیمبر آف کامرس کے صدر سرتاج احمد خان کی زیر سرپرستی بلائی گئی CPEC کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں سیاسی کارکنوں سمیت ، سول سائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ چترال کو بھی پاکستان چین اقتصادی راہداری کے راستے میں شامل کیا جائے۔ 

نقشہ: بشکریہ چائنا فوکس

کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سی پی ای سی یعنی پاک چائنا اقتصادی راہداری کو چترال سے گزارنا چاہئے جو جغرافیائی لحاظ سے بھی مناسب ہے اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے۔ 

ضلعی ناظم مغفرت شاہ نے کہا کہ راہداری منصوبہ ناکام ہوجائے گا اگر حکومت اس کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کریگی ۔ حکوت تجاویز کو نظر انداز کرنے سے پہلے زمینی حقائق کی جانچ کرے۔ اگر CPEC کو چترال سے گزارا جائے گا تو اس پسماندے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت اور سول ساسائٹی کی جانب سے پیش کئے جانے والے تجاویز کے مطابق چترال سے بہتر اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان اور چائنا سے قریب ہونے کی وجہ سے چترال کی اہمیت ہے اور یہ پاکستان اور جاجکستان کو ملانے کے لئے قریب ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ 




کانفرنس میں سرتاج احمد خان، ایم پی اے فوذیہ بی بی ، قاری جمشید احمد، صاحب نادر ایڈوکیٹ، نیاز نیازی، سعید احمد خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا گیا کہ چترال کے نقطہ نظر کو نظر انداز نہ کیا جائے اور علاقے کو سیپیکCPEC کا حصہ بنایا جائے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget