24 فروری، 2016

سیلاب اور زلزلہ سے متاثرہ ہزاروں لوگوں نے اپنے حق کیلئے احتجاج کیا۔ بونی ، چترال مستوج روڈ صبح سے شام تک بند رہا۔

 

#چترال (گل حماد فاروقی) تحفظ حقوق چترال کے زیر نگرانی کوشت، کوراغ، مستوج اور دیگر بالائی علاقوں کے ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ پہلے سیلاب کی وجہ سے ان کی گھر بار برباد ہوا پھر زلزلہ کی وجہ سے یہ لوگ بری طرح متاثر ہوئے مگر حکومت کے دعوے صرف اعلانات کی حد تک محدود رہی اور ابھی تک متاثرہ لوگ بے یار و مدد گار پڑے ہیں۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کوشت کا پل تباہ ہوا، بمباغ میں سڑک، پل اور آبپاشی کی نہریں تباہ ہوئی مگر ابھی تک حکومت نے بحالی کا کام مکمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موژ گول کا پورا گاؤں تباہ ہوا ابھی تک دس فٹ ملبہ پڑا ہے مگر نہ تو متاثرین کو امدادی رقم کی چک ملے نہ سامان۔

انہوں نے کہا ہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد ی کارڈ بھی اکثر افسران، سرکاری ملازمین اور بااثر افراد کو جاری کئے گئے ہیں جن سے زیادہ تر غریب، نادار اور حقدار لوگ محروم رہ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں نے پہلے بھی احتجاج کیا تھا جس پر انتظامیہ نے یقین دہانی کی تھی کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے مگر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔

احتجاجی جلسہ میں خواتین نے بھی شرکت کی اور وقتاً فوقتاً وہ بھی جلسہ سے خطاب کرتی رہیں۔ متاثرین نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے چترال کے دورہ کے دوران اعلان کیا تھا کہ جس کا جو بھی نقصان ہوا ہے ان کے ساتھ مالی طور پر امداد کیا جائے گا مگر ابھی تک متاثرہ لوگ اس امداد سے محروم ہیں اور انتظامیہ کے افسران نے من پسند لوگوں کو یہ امدادی چیک تقسیم کئے۔



متاثرین نے دن بھر چترال سے بونی مستوج روڈ بلاک رکھا شام کے وقت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبد الغفار اور تحصیل ناظم محمد یوسف، نائب ناظم فخر الدین نے مذاکرات کے بعد احتجاج حتم کیا۔ تاہم کوشت سے تعلق رکھنے والے سابق ناظم بلبل خان ایوبی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انتظامیہ نے سات افراد کے حلاف مقدمہ درج کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے حالات مزید حراب ہوسکتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget