فروری 11, 2016

ڈی سی چترال سے درد مندانہ اپیل(طاہر شادان)



عزت مآب اسامہ وڑائج صاحب ڈی سی چترال!

جناب عالی گزشتہ سال سیلاب اور زلزلے سے چترال کا پورا ضلع شدید متاثر ہوا جس کی وجہ سے چترال کو آفت زدہ قرار دیا گیا اور سیلاب و زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے ملکی و غیر ملکی فلاحی ادارے بیرون ممالک اور شخصیات چترال کی طرف متوجہ ہوئے اور متاثرین کے ساتھ امداد کی مد میں خاطر خواہ رقم اور امدادی سامان چترال میں آئے حکومت نے بھی متاثرین کی بحالی کے لئے قابل ذکر امداد فراہم کی اس کے باوجود بہت سے متاثرین کو مکمل دانستہ طورپر اس امداد سے محروم رکھا گیا نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی طرف سے ٹیمیں بھیج دی گئی سب کچھ درج ہونے کے بعد بھی کچھ حقیقی متاثرین امداد سے محروم رہے اور جعلی متاثرین امداد لوٹتے رہے
مجھے آپ کی ایمان داری اور پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے اور یقین سے کہ سکتا ہوں کہ جتنے متاثرین امداد سے محروم رہے یا جتنے جعلی متاثرین مالامال ہوئے ان سب کے بارے میں آنجناب کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے ۔

جناب والا میں ایک سوال پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ امدادی رقم حاصل کرنے کے لئے کون کونسے کوائف یا ریکوائرمنٹ درکار تھے؟
کیا وہ لوگ جن کی زمینات سیلاب کی نذر ہوگئیں؟
جس کے انتظامیہ اور ممبران سے تعلقات ہو؟
جس کے پاس پیسہ ہو اور وہ نقصانات لکھنے والوں کو کھلا پلا سکے؟
جس کا رشتہ انتظامیہ میں ہو؟
جس کا رشتہ دار ناظم چئیرمین وغیرہ ہو؟

اس سوال کا جواب آپ کے ذمہ ڈال کر آگے چلتا ہوں 
جناب عالی میں ایک ایسے شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس کو صرف اس لئے امداد سے محروم رکھا گیا کہ اس کے گھر میں ضعیف العمر والدہ چار چھوٹے بچے ہیں جو امداد حاصل کرنے کے لئے نہ تو کسی اے سی صاحب کے پاس جا سکتے ہیں اور نہ نقصانات کا جائزہ لینے والوں کی دعوت کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی رشتہ دار لوکل گورنمنٹ میں ہے جی ہاں صرف اس لئے امداد سے محروم رکھا گیا ہے ورنہ اگر نقصانات کے مطابق  امداد ملتی تو جتنا آس پاس کے متاثرہ لوگوں کو ریلیف دینے گئی اتنا ہی اس کو بھی ملنا چاہئے تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ متاثرین کے بجائے متعلقین کو نوازا گیا۔

وادی کھوت کےعین وسط میں سیلاب سے شدید متاثر علاقہ لشٹ دور کے رہائشی ابراہیم خان ولد علی مرادخان کو صرف اس لیے امداد سے محروم رکھا گیا کہ اس کے نہ تو کسی عہدیدار کے ساتھ تعلقات تھے نہ اے سی تھانیدار پولیس سے کوئی شناسائی تھی اور نہ کسی ناظم چئیرمین اور کونسلر سے یاری دوستی تھی نہ وہ خود گھر میں موجود تھا کہ کسی کو کھلا پلاکر اور تعلقات جگا کر امداد حاصل کرتا البتہ وہ صرف اور صرف ایک متاثر تھا اور صرف متاثر ہونا امداد لینے کے لئے کافی ثابت نہیں ہوا۔

ابراہیم خان کے ساتھ متاثر ہونے والوں نے جہاں لاکھ دو دو لاکھ روپے امدادی سامان کے علاوہ وصول کئے تو وہاں ابراہیم خان کے حصے بیس کلو آٹا دو کلو چینی دو کلو دال کے علاوہ کچھ نہیں آیا کیونکہ وہ متاثر تھا لیکن کسی سے تعلقات نہیں تھے اور خود گھر پر موجود نہیں تھا۔

جناب عالی سے دردمندانہ اپیل ہے کہ اس علاقے میں نقصانات لکھنے والوں سے پوچھا جائے کہ کس حساب سے نقصانات لکھے گئے تھے نقصان کے حساب سے یا کہ جان پہچان کے حساب سے۔

ابراہیم خان اب بھی آس لگا کے بیٹھا ہے کہ مجھے محروم نہیں کیا جائیگا اب آنجناب پر منحصر ہے کہ جناب والا ایک حقیقی متاثر کی امیدوں پر کتنا پورا اترتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget