اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 مارچ، 2016

چترال: برفانی تودے گرنے سے سکول سے گھر جانے والے 11 بچے جاں بحق

 


چترال (نمائندہ ٹائمز آف چترال) ہفتے کے روز لوٹکوہ تحصیل کے گاوں سوسوم کے قریبی گاون پرسان پر برفانی تودہ قیات بن پر کر گری۔ سوسوم کے گورنمنٹ ہائی سکول میں پشاور بورڈ کے تحت ثانوی جماعتوں کے سالانہ امتحانات دیکر گھر واپس جانے والے 11 بچے برفانی تودے کی زد میں آگئے۔ بچے سوسوم اور پرسان کے درمیان دشوار گزار راستے سے گزر رہ تھے کہ برفانی تودہ ان پر آگرا ، ایک بچہ ان میں سے بچ کر نکل سکنے میں کامیاب ہوگیا باقی 11 بچے تودے کے نیچے دب گئے۔ جن میں سے دو کی لاشیں اتوار کے روز نکال لی گئیں باقی کی تلاش جاری ہے۔ 

ملک کے مختلف علاقوں سمیت چترال کے کئی مقامات پر ان دنوں شدید برف باری ہورہی ہے۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے اتوار کے دن ملبے تلے دبے بچوں کی تلاش کا کام روک دیا گیا۔ کیونکہ برفباری کی وجہ سے مزید تودے گرنے کا خدشہ تھا۔ اتوار کو دو طالب علموں رحمت بائے ولد ادینہ خان اور مبشر علی کی لاشیں نکال لی گئیں جنہیں بعدازاں ان کے آبائی گاوں پرسان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرخاک کیا گیا۔ 

لاپتہ بچوں کی تلاش مقامی لوگ چترال سکاوٹ کی مدد سے کررہے ہیں۔ لاشوں کی تلاش کے لئے سراغ رساں کتے بھے منگوائے گئے ہیں۔ خراب موسم اور مسلسل برف باری کی جاری سے تلاش کا کام جاری نہیں رہ پاتا۔ 

چترال سے صوبائی ممبران بی بی فوذیہ اور سلیم خان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متوفین کے خاندانوں سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمد وڑائچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے جان بحق طلباء کے لواحقین کو 3 لاکھ فی خاندان دینے کا اعلان کیا ہے۔ 

لوٹ کوہ کے کئی علاقوں میں گزشتہ دنوں سے جاری برف باری میں 3 فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ شدید برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہیں اور لوگوں کو دشوار گزار راستوں سے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ 

جان بحق ہونے والے 8 بچوں کے نام اس مطابق ہیں، رحمت بائے والد آدینہ خان، عمران الدین ولد عظمت، فیض علی، علی شان، مبشرعلی، ارشاد مراد، الہٰی اور عمران خان۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں