اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

17 مارچ، 2016

علماء کا موقف درست ثابت ہوگیا، حقوق نسواں ایکٹ کے نتائج آنے شروع ، 2 خواتین کو طلاقیں ہوئیں

 

رحیم یار خان (ویب ڈیسک 17 مارچ 2016) خاتون کی شکایت پر کہ اس کا شوہر اس پر تشدد کرکے گھر سے نکال دیا ہے۔ پولیس نے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا تو شوہر نے بیوی کو زندگی سے ہی نکال دیا، طلاق دے دی۔ 

تفصیلات کے مطابق مغل پورہ لاہور کی رہائشی خاتون تسنیم کی شادی رحیم یارخان کے علامہ اقبال ٹاون کے شیخ سلمان فرین سے 6 سال قبل ہوئی تھی۔ نسوان بل کے بعد اورطلاق کےواقعے سے 2 روز پہلے تسنیم تھانے گئی اور اپنے شوہر کے خلاف درخواست دی۔ درخواست موقف اپنایا کہ اس کا شوہر تشدد کرتا ہے، گزشتہ روز شوہر سلمان اور سلمان کے والد دونوں نے مل کر اس پر تشدد کیا اور گھر سے نکال دیا۔ بچے اور موبائل فون بھی چھین لیا۔ تسنیم کی اس درخواست پر پولیس نے حقوق نسوان ایکٹ کے تحت شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ جس پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی۔ کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

نسواں ایکٹ کا یہ دوسرا شکار ہے اس سے پہلے وہاڑی کے علاقے لڈن میں بیوی نے شوہر کو تھانے میں بند کروادیا تھا۔ جس پر واپس آکر شوہر نے بیوی طلاق دیکر اس کے گھر بھیج دیا۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ ضلع لکھا سلدیرا کے رہائشی خادم حسین نے اپنی بیوی کو سرزنش کی تھی اور معمولی تشدد کیاتھا۔ جس پر بیوی نسیم بی بی نے اس کے خلاف تھانہ لڈن میں درخواست دے دی جس پر پولیس نے خادم حسین کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا، جب خادم حسین ضمانت پر رہا ہوا اور گھر آتے ہی اس نسیم بی بی کو طلاق دے دی۔

درجہ بالا واقعات نے علماء کے اس موقف کو درست ثابت کردیا کہ اس ایکٹ کے آتے ہی طلاق کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں