اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 اپریل، 2016

’جے ماتا کی‘ کہنے سے انکار پر 18 سالہ مدرسہ طالب کے بازو توڑ دیئے گئے

دہلی (ویب ڈیسک 02 اپریل 2016) دہلی کے بیگمپور علاقے میں ہندو انتہا پسندوں نے مدرسے کے ایک 18 سالہ طالب علم پر شدید تشدد کرکے بازو توڑ دیئے۔ اور اس کے دو دوستوں کو بھی شدید زخمی کردیا۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے لڑکوں پر زور کہ وہ ’’ جے ماتا کی ‘‘ کہیں مگر مدرسہ طالب علموں نے انکار کردیا جس پر انہیں تششد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کی رپورٹ کے بعد بھی ابھی تک پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے، پولیس نے واقعے کے 3 روز بعد ایف آئی آر درج کی۔ 

تشدد کا نشانہ بننے والے دلکاش اور اس کے دوست اجمل اور نعیم نے بتایا کہ وہ علاقے کے ایک پارک کے قریب سے چل رہے تھے۔ ہم ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ شدد پسند ہندووں کا گروپ وہاں آیا اور ہمیں ’’جے ماتا کی‘‘ کہنے کو کہا۔ انکار پر ہم پر تشدد کیا اور بری طرح سے مارا پیٹا۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں