اپریل 11, 2016

شہر ناپرساں وادئ تورکہو، چترال: تحریر طاہر شادان

 


گزشتہ کئی سالوں سے وادی تورکہو شہر ناپرساں کا سماں پیش کر رہا ہے ایم ایم اے کی ضلعی حکومت سے لیکر سید سردار حسین کے دور تک اس وادی کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے مرحوم ایم پی اے مولانا جہانگیر کے دور میں تورکہو روڈ میں جو کچھ کام ہوا اس کے بعد گویا اس علاقے کو علاقہ غیر سمجھا گیا۔ ایم پی اے غلام محمد صاحب کے چھ سال اور اب سردار حسین کے ڈھائی سال میں یہاں حکومت اور نمائندہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی علاقہ عوام اپنی مدد آپ کے تحت مسائل کرتے چلے ارہے ہیں لیکن اکثر مسائل کا تعلق براہ راست گورنمنٹ سے ہے جس میں روڈ بجلی ہسپتال کمیونیکیشن اور تعلیم کا شعبہ آتا ہے ان تمام مسائل کی طرف کبھی کسی ایم پی اے توجہ نہیں دی یہاں کے عوام نے علما سے لیکر خلفہ تک اور زمیندار سے لیکر ٹھیکیدار تک سب کو باری باری جتوا کر آگے بھیج دی لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہی رہا۔ اختیارات نچلی سطح میں منتقل کرنے کے لئے بلدیاتی انتخابات کرائے گئے مگر اختیارات نچلی سطح پر آنے کے بجائے عوام کی دسترس سے مزید دور ہوگئے تورکہو کے دو یونین کونسل کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ناظم آج تک لاپتہ ہیں کہیں کسی بھی فورم پر علاقے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے نظر نہیں آئے گویا بلدیاتی نظام میں بھی تورکہو شہر ناپرساں ہی رہا یہاں کے مسائل کو اجاگر کرنے والا آج بھی کوئی نہیں بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جو بے شمار ممبران منتخب ہوگئے تھے وہ نجانے کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ عوام اس نظام کی وجہ فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہوا البتہ ووٹ مانگنے اور ووٹ دینے میں عوام کا قیمتی وقت ضائع ضرور ہوا ہے اور نونہالوں کی پڑھائی اس وجہ سے متاثر ضرور ہوئی ہے اس کے علاوہ اگر کوئی فائدہ ہوا ہے تو وہ منتخب ممبران کو ہی ہوا ہے اور بس۔

واشچ پل، تورکہو چترال: تصویر کرٹیسی ویکیپیڈیا

مسائل میں گھرے اس وادی میں انصاف کے دعویدار صوبائی حکومت کی طرف ایک ہسپتال بھی نہیں ہے چالیس پینتالیس ہزار نفوس پر مشتمل اس شہر ناپرساں کے لئے ہسپتال تو کجا سرکار کی طرف سے ایک ڈاکٹر بھی دستیاب نہیں ہے

سڑکوں کی حالت تو سب کے سامنے ہے آئے روز حادثات بھی نمائندوں کو جگانے میں ناکام ہیں

کمیونیکیشن کی سہولت 50 فیصد کے لئے ہے ہی نہیں اور 59 فیصد کے لئے نہ ہونے کے برابر ہے۔

تعلیم کے ساتھ انصاف کے جو بلند و بانگی دعوے کئے جارہے ہیں وہ صرف دعوے ہی ہیں معیار تعلیم میں بہتری کے لئے جو کوششیں شروع کی گئی تھی اس سے بھی وادی تورکہو کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ سکول بچوں کی تعداد کے مقابلے بہت کم ہیں دشوار گزار راستوں سے گزر کر سکولوں تک پہنچنا نرسری پہلی دوسری اور تیسری کلاس کے بچوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ۔ دس پرائمری سکولوں کے بچے پانچویں کلاس کے بعد ایک ہی ہائی سکول میں جمع ہوجاتے ہیں ہر پرائمری سکول سے اگر صرف تیس بچے بھی ہائی سکول میں چلے گئے تو چھٹی کلاس میں طلبا کی تعداد چار سو بنتی ہے اب ایک ہی کلاس میں اگر چار سو بچے ہو تو اس میں تعلیم کا معیار کس طرح بہتر ہو سکتا ہے اگر دو سو ہی کرلیں تو پھر بھی ایک کلاس میں دو سو طلبا کسی طرح درست نہیں ۔ گورنمنٹ ہائی سکول کھوت میں 10 پرائمری سکول کے بچے جمع ہو جاتے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ دسویں کے بعد پانچ سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کے بچوں اور بچیوں کے علاقے پڑھائی جاری رکھنے کے لئے کوئی ہائیر سیکنڈری سکول نہیں ہے اور یوں ہر سال تین چار سو بچے اور بچیاں میٹرک کے بعد دوسرے علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جہاں ان کو گوناگوں مسائل کا سامنا رہتا ہے اور بلا آخر تین چار سو میں سے صرف پچاس ساٹھ طلبا ہی تعلیم جاری رکھ پاتے ہیں تورکہو دوسرے علاقوں میں بھی یہی صورت حال ہے

برق رفتار ترقی کے اس دور تورکہو بجلی سہولت سے محروم ہے بلکہ اس وادی محروم رکھا گیا ہے

عوام قومی صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے ممبران سے پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر اس وادی کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے؟ ؟؟؟؟

امید ہے کسی قومی صوبائی ممبر یا لوکل ممبران میں سے کسی کا ضمیر زندہ ہو تو جواب مل جائیگا اور اپنی مجبوریوں سے عوام الناس کو آگاہ کرے گا ورنہ یہ دو چار دن گزر جائیں گے پھر ووٹ مانگنے کا وقت آہی جائیگا

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget