اپریل 20, 2016

نظامِ تعلیم کی زبوں حالی: تحریر طاہرشادان

نظامِ تعلیم کی زبوں حالی: تحریر طاہرشادان

قران مجید کے اٹھتر ہزار الفاظ میں سےجو پہلا لفظ اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا وہ علم کے بارے میں ہے یعنی (پڑھ) اس کے علاوہ قران پاک کے چھ ہزار ایتوں میں سے پہلی پانچ آیتیں علم کے بارے میں نازل فرما کراللہ تعالی نے علم کی اہمیت کو اجاگر فرمایا۔۔۔ گویا علم کے بغیر انسان اندھا ہے علم ایک نور ہے جس کے ذریعہ انسان تاریکیوں سے بچ جاتا ہے۔



دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے تعلیم کے شعبے کو بہتر نہ کر لےتاریخ شاہد ہے کہ صرف وہی قومیں دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ہے۔ کسی بھی فلاحی مملکت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اگر کسی چیز کو اہمیت نہیں دی گئی ہے تو بلاشبہ تعلیم ہی ہے مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے ہمارے معاشرے تعلیم یافتہ لوگ بھی بے خبر ہیں سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم کو دیکھ کر اکثر لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کروا دیتے ہیں 

سرکاری سکولوں کی ناقص معیار تعلیم سے بہت سے ہوشیاروں نے بھر پور فائدہ اٹھایا چند کمروں پر مشتمل سکولز قاتم کئے اور اچھی تعلیم و تربیت کے بلند و بانگ دعووں سے عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو معیاری تعلیم دی جاتی ہے حالانکہ ان سکولوں کی حالت کی بھی سرکاری سکولوں سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہوتی بس فیس کے چکر میں مستقبل کے معماروں کا مستقبل تباہ و برباد کرکے رکھ ریتے ہیں وادی چترال میں بھی ایسے ہی پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہے جہاں بچوں سے فیس وصولی کے علاوہ سکول کے منتظمیں کا اور کوئی کام نہیں ہوتا سکول میں ایسے اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں جو کہ نصاب تعلیم سے یکسر ناواقف ہوتے ہیں کم تنخواہ کی لالچ میں سکول انتظامیہ اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ رکھنے سے کتراتے ہیں اور یوں معماران قوم کے مستقبل کے ساتھ اذادانہ کھیل جاری ہے سکول میں بچوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش میں لگے رہنے والے ان منتظمین سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اتنے بچوں کے لئے اپ کے پاس اساتذہ کی تعداد کتنی ہے کیا 5 اساتذہ دس کلاسوں کو وقت دے سکتے ہیں ؟ 

چترال بھر کی طرح وادی تورکہو میں بھی پرائیویٹ سکول معیار کی بجائے مقدار کو ترجیح دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اچھی خاصی فیس تو مل جاتی ہے لیکن بچوں کے اندر جس قدر قابلیت ہونی چاہئے وہ کہیں نظر نہیں آتی پندرہ بیس سالوں سے پرائیویٹ سکولز فعال ہیں لیکن بدقسمتی سے صرف فیس لینے کی حد تک فعال ہیں تورکہو میں پندرہ سے بیس پرائیویٹ سکولوں کی بیس سالہ کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو حد درجہ مایوسی ہوتی ہے بیس سال میں گنتی کے کچھ طالب علم کسی اچھے عہدے میں نظر اتے ہیں اور کچھ اچھے یونیورسٹیز میں پڑھ رہے ہیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کل تعداد کی تین فیصد بھی نہیں بنتی

میرا تعلق چونکہ چترال کے انتہائی دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں کھوت سے ہے میں اگر اپنے علاقے کی بات کروں تو وہاں سرکاری سکولوں کے علاوہ چار پرائیویٹ سکولز ہیں بیس سال سے قاتم سالک پبلک سکول ابتدائی چند سالوں میں کافی حد تک معیار کو برقرار رکھا صلاح الدین سالک مرحوم کی انتقال کے بعد گویا سالک پبلک سکول کھوت عروج سے تنزل کی طرف سفر کا آغاز کیا اور یوں چند سالوں میں اس قدر نیچے آگیا کہ اب سکول برائے نام قائم ہے نہ وہ معیار ہے اور نہ کوئی سکول کی طرف توجہ دینے والا ہے عمارت کی خستہ حالی صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال اور کم پڑھے لکھے اساتذہ کی وجہ سے سکول کی اہمیت میں قابل ذکر کمی اگئی ہے اگر صورت حال یہی رہی تو سالک پبلک سکول کھوت کا وجود ائندہ چند برسوں میں ختم ہوجائےگا یہاں میں صلاح الدین مرحؤم کے زوجہ محترمہ اور 

محترم مظفرالدین صاحب کی نوٹس میں یہ بات لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ سالک مرحوم کے یادگار کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے اور سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے اچھے تعلیم یافتہ اساتذہ کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ سکول کی عمارت کوکم از کم کوئی ایسی شکل دینے کی کوشش کرے کہ دیکھنے والے کو وہ سکول ہی نظر آئے 

کمیونٹی بیس سکول کے نام ایک سکول اور پرائیویٹ سکول علاقہ چھت گھاس میں قائم ہے جس کے بارے میں مجھے کوئی زیادہ معلومات تو نہیں البتہ سکول کے اس پاس رہنے والوں سے وہاں کے غیر معیاری تعلیم کے بارے شنوائی ضرور ہوئی ہے سکول کی عمارت ایک کھلے میدان میں کسی گودام کا منظر پیش کر رہا ہے چاردیواری سے محروم اس سکول کے اندرونی حالت اور معیار تعلیم پر اعتراض کرنے کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ مجھے اس سکول کے بارے میں دو سال پہلے پتہ چلا کہ چھت گھاس میں بھی کوئی پرائیویٹ سکول ہے اس پاس کے اکثر لوگ اپنے بچون کو سرکاری سکول میں تعلیم دلوا رہے ہیں اور اسٹاف میں کوئی بھی قابل ذکر تعیم یافتہ استاد موجود نہیں


تیسرا سکول روز گارڈن پبلک سکول کے نام سے قائم تھا جو اس سال ناقص انتظامات اور انتظامیہ کی عدم توجہ کا شکار ہوکر نرسری سے اٹھویں تک کلاسیں ختم کرکے نویں کلاس سے کالج سطح کے لئے برقرار رکھا گیا چھوٹی کلاسوں کے بچوں کو سکول سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے بچوں کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں فیس لے کر بھی بچوں کو معیار تعلیم دے سکے والدین کسی نہ کسی طرح فیس بھرنے کے لئے تیار ہیں لیکن کوئی ادارہ ایسا نہیں جو والدین کے امنگوں کے مطابق بچوں کو تعلیم فراہم کرسکے

ان تین سکولوں کے علاوہ اے کے ایس گرلز ہائی سکول کھوت بھی عرصے سے قائم ہے اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس میں صرف بچیوں کے لئے کلاسیں تھی بچوں کا داخلہ ممنوع تھا چند سال پہلے پرائمری کلاس کے بچوں کے داخلے کی اجازت دی گئی جو اب ترقی کرکے دسویں تک پہنچ گئی ہے اب وہاں پر بھی مخلوط نظام تعلیم ہے تعلیمی معیار پر اگربات کی جائے تو میرے سامنے ایک ہی واقعہ ہے جو کہ اے کے ای ایسکھوت میں کمزور معیار تعلیم پر دلالت کرتا ہے چند سال پہلے اے کے ای ایس کے پرانے اساتذہ کرام کو فارغ کرکے ان کی جگہ اعلی تعلیم یافتہ اور قابل اساتذہ بھرتی کئے گئے چونکہ برسوں سے قاتم اے کے ایس کھوت کوئی ایک استاذ بھی ایسا دینے سے قاصر رہا جو اے کے ای ایس کے موجودہ معیار پر پورا اترتا ہو یا اترتی ہو اب تک لگ بھگ ایک ہزار طالبات یہاں سے میٹرک کرکے نکل چکی ہیں لیکن اس کے بعد وہ کہیں کہاں چلی گئی کوئی پتہ نہیں ایک ہزارسے زائد طالبات یہاں سے فارغ ہونے کے باوجود اب اے کے ای ایس کھوت میں ایک بھی مقامی استاذ یا استانی نہیں ہے سارے کے سارے باہر سے بھرتی کے گئے ہیں جو کہ علاقے میں قائم تمام سکولوں کے لئےلمحہ فکریہ ہے ویسے تو اے کے ایس میں معیار تعلیم اطمنان بخش ہے جیسے کہ کوراغ اور سین لشٹ کے نتائج حوصلہ افزا ہیں اسی طرح اگر کھوت برانچ کی طرف بھی توجہ دی جائے تو ممکن ہے یہاں بھی قابل طلبا و طالبات پیدا ہو سکتے ہیں جو اگے بڑھ کر کم از کم اسی سکول میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے سکیں گے

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ کے پی کے محکمہ تعلیم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کو سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کی توجہ دی جائےاور بہتریں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنا کر نتے پاکستان اور بدلتا پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائےلئے اور ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں میں نظام تعلیم میں بہتری لا کر عوام کو پرائیویٹ سکولوں کے بھاری بھر کم فیسوں سے نجات دلایا جائے۔پرائیویٹ سکول جوکہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گئے ہیں ان کے لئے کوئی پالیسی وضع کیا جائے کچھ نظم و ضبط بنایا جائے ہر ایک کو قوم کے نونہالوں کے مسقتبل کے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے

کیونکہ

اج معاشرے کا بچہ بچہ کہ رہا ہے کہ
میں شام کے مناظر سے لرزتا اس لئے بھی ہوں
افق میں ڈوبتا ہوا سورج اپنا انجام سا لگتا ہے

1 تبصرہ:
Write comments
  1. سب سے پہلے میں طاہر الدین شادان صاحب کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو ہمیشہ چترال کے مسائل اور مشکلات کو موضوعِ بحث لاکر حکومت وقت کی توجہ ان کی طرف لانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے. ان کے قلم سے نکلی ہوئی ہر بات اپنے حرف با حرف درست اور حقیقت پر مبنی ہے. واقعی میں ہماری تعلیمی ادارے اس قدر کمزور ہو گئیں ہیں کہ آن اداروں سے فارغ التحصیل طلباء دوسرے شہروں میں جا کر ٹهیک طرح سے بول بھی نہیں سکتے ہیں.ہم سب کو بحیثیت شہری اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنے میں اپنی طرف سے کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے.

    جواب دیںحذف کریں

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget