مئی 16, 2016

چترال، ریشن میں بڑا احتجاجی جلسہ: بجلی گھر پر کام 10 دن کے اندر شروع کیا جائے ورنہ۔۔۔ حکومت کو سخت وارننگ

 


چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 16 مئی 2016 ) چترال، ریشن میں 15 مئی بروز اتوار 2016 کو ریشن سمیت قریبی گاون کے لوگوں نے بڑا احتجاجی جسلےمنعقد کیا۔ اس سلسلے کا پہلا جلسہ 7 مئی کو منقعد کیا گیا تھا جس میں حکومت اور مجاز اداروں کو جلد سے جلد ریشن کے سیلاب سے متاثرہ ہائیڈل بجلی گھر کو بحال کرکے ایک سال سے بجلی سے محروم 20 سے زائد دیہات کو فوری طور بجلی کی فراہمی شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ جلسے میں حکومت کو 15 مئی کا الٹی میٹم دیا گیا گھا، مگر اس دوران بھی وفاقی حکومت اور بالخصوص حکومت خیبر پختونخواہ کے کان پر جون تک نہیں رینگی۔ 



چار میگاواٹ پیداوری صلاحیت کا ریشن ہائیڈل پاور ہائوس جرمن فنڈ اور جرم انجنیئرز کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا۔ جرمن انجینئر کے مجوزہ نقشے کے برعکس پاکستانی کرپٹ انجینئرز نے بجلی گھر کے ٹربائینز ایسی جگہ نصب کیں، کہ جہاں انہیں سیلاب سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ جبکہ جرمن انجینئر نے سرنگ کے بالکل سامنے تنصیب کے لئے نقشہ دیا تھا۔ اس ملک میں کھایا پیا اور اوپر سے ہاجمولا کھا یا تو سب ہضم والی بات ہے۔ اوپر سے نیچے سب کرپٹ بندعنوان، راشی، بے ایمان ہیں۔ مذکورہ انجینئر کے خلاف انکوائری شروع تو کی گئی مگر بہت جلد اس پر مٹی ڈال دی گئی۔

بجلی گھر ریشن سے آگے تا موڑکہو، اور دوسری جانب مستوج تک کے تمام دیہات کو بجلی فراہم کرتا تھا۔ جس سے لاکھوں افراد مستفید ہوتے تھے۔ بجلی کی بدولت جنگلات کی کٹائی کم ہوگئی تھی جس کا موسم اور ماحولیات پر اچھا اثر ہورہا تھا۔ لیکن گزشتہ سال جولائی میں آنے والے تباہ کن سیلاب ریشن بجلی گھر کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ٹربائنز سیلابی ملبے تلے دب گئے تھے، عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ ٹربائنز کو بعد ازاں علاقے کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر صاف کیا لیکن حکومت اور بجلی گھر کا انتظام چلانے والا ادارہ شیڈو اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔

15 مئی کو مختلف علاقوں سے عوام کی کثیر تعداد ریشن میں جمع ہوگئی۔ اور بجلی گھر کی تعمیر میں تاخیر پر ایک بار پھر شدید احتجاج کیا۔ جلسے کی صدارت سابق ممبر صوبائی اسمبلی عبدالرحمان کر رہے تھے۔ مقررین نے بجلی گھر کی تعمیر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مقررین نے کہا کہ 1990 سے پہلے چترال کے کئی علاقوں میں لوگ آفیون کی فصل کاشت کیا کرتے تھے۔ جو کہ لوگوں کا ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا۔ 90 میں حکومت نے چترالی عوام سے افیون کی کاشت بند کرنے کی اپیل کی،اور اس کے عوض انہیں کچھ مانگنے کو کہا۔ تو اس وقت عوام نے مطالبہ کیا کہ اپر چترال میں بجلی فراہم کی جائے۔ تو حکومت نے افیون کے بدلے ریشن بجلی گھر کی تعمیر کی۔ 

ایگزیکٹیو انجینئر کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے سیلاب نے بجلی گھر کو نقصان پنچایا کیونکہ 2013 میں آنے والے سیلاب نے اپنے ساتھ پتھر لائے اور یہ پتھربجلی گھر کے قریب آکر پڑے رہ گئے تھے، جن کو ہٹانے کے لئے بار بار مقامی لوگوں کی جانب سے ایگزیکٹیو انجینئر کو کہا گیا مگر اس نے ایک نہ سنی۔ جس کی وجہ سے 2015 میں آنے والے بڑے سیلاب کا سیلابی ریلہ پتھروں میں پھنس کر جمع ہونا شروع ہوگیا اور بعد ازاں لہر ٹوٹ جانے کی وجہ سے یہ ریلہ بجلی گھر سے ٹکرایا اور بجلی گھر کے اندر داخل ہوگیا ۔ جس نے مشینوں اور عمارت کو شیدید نقصان پہنچایا۔ اگر مذکورہ پتھر پہلے ہی ہٹا دیئے جاتے تو سیلابی ریلہ نہ جمع ہوتا اور نہ ہی بڑے ریلے کی شکل اختیار کرتا۔ 

جلسے کے شرکاء نے حکومتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شرافت کی زبان کو کمزری نہ سمجھیں، اور فوری طور پر بجلی گھر میں کام شروع کیا جائے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔ مقررین نے عوامی نمائندوں کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا، اگر نمائندے حکومتی ایوانوں میں عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتے انہیں اپنے آپ کو لیڈر کہنے کا کوئی حق نہیں۔ فوراً استعفیٰ اور عوام کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ 

جلسے میں حکومت کو 10 دن کی مہلت دی گئی اور خبر دار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت 10 دن میں اس پر کام شروع نہ کیا تو وہ خواتین اور بچوں سمیت سڑک پر آکر دھرنا دیں گے۔ حکومت ہمیں ٹیکنیکل افراد مہیا کرے اور ہم افرادی قوت بھی فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یا پھر اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو اس سے ہیں آگاہ کرے۔

لکھاری سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے  abulhasnaen@gmail.com




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget