7 مئی، 2016

چترال، ریشن میں اہم جلسہ، پاور ہاوس کی تعمیر نو میں تاخیر پر خیبر پختونخواہ حکومت پر سخت تنقید اور 15 تک کی مہلت

 



چترال، ریشن (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 7 مئی 2016) چترال گزشتہ سال کے سیلابوں نے جہاں لوگوں کی ذاتی املاک کو شدید نقصان پہنچایا وہاں سرکاری عمارتوں اور املاک کو بھی نقصان متاثر کیا۔ مذکورہ سیلاب میں اپر چترال کے کم و بیش 20 دیہات کو روشن کرنے والا ریشن ہائیڈل پاور ہاوس تباہ ہوگیا تھا۔ سیلاب نے پاور ہاوس کی عمارت اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن یہ نقصان ایسا بھی نہیں کہ اسے دوبارہ تعمیر نہ کیا جاسکے۔ کروڑوں روپے خرچ کرکے ڈیڑھ کلومیٹر سرنگ بنایا گیا تھا۔ اوریجنل نقشے کے مطابق پاور ہاوس کی مشینری سرنگ کے بالکل سامنے نصب ہونی تھی، ایسا ہونے کی صور میں کسی بھی بڑے سیلاب میں محفوظ رہتا۔ مگر پاکستانی انجینئروں نے جرمن انجینئر کے نقشے کے برعکس نالے کے بالکل اوپر لاکے تعمیر کیا تھا۔ جسکی وجہ سے پاور ہاوس کو شدید نقصان پہنچا ۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ انجینر کے خلاف کوئی کاروائی تاحال عمل میں نہیں لائی گئی۔



بروز جمعہ 6 مئی 2016 کو ریشن میں اہم جلسہ منقعد کیا گیا جس میں ساڑے چار سو افراد نے شرکت کی۔ جلسے کی صدارت خواجہ نظام الدین ایڈوکیٹ نے کی۔ شرکاء کا مطالبہ تھا کہ ریشن پاور ہاوس کی تعمیر جلد شروع کی جائے۔ 10 ماہ گزر جانے کے باوجود صوبائی حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ پاور ہاوس چونکہ سابقہ شیڈو اور موجودہ سرحد ہائیڈل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ملکیت ہے۔ 4 میگاواٹ پیداواری گنجائش کے اس پاور ہاوس میں 2 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی تھی جو بالائی چترال کے 20 سے زائد دیہات کو بچلی فراہم کرتا تھا۔ جس کی بدولت اینڈھن کا خرچ کم ہوگیا تھا، جس سے عوام کو مالی فائدے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئی تھی۔

پاور ہاوس کی قیمتی مشینری لاورث کی طرح تاحال ملبے تلے پڑی ہے۔ مقررین نے حکومت اور ایس ایچ ڈی او کی بے حسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پاور ہاوس کی مشنیری کو سب سے پہلے باہر نکال کر صاف کرکے کم از کم ایک ٹربائن چالو کردایں تاکہ ماہ مبارک رمضان میں قریبی دیہات کو بجلی فراہم ہوسکے۔

مقررین نے عوامی نمائندوں سمیت مقامی انتظامیہ کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نےکہ عوامی نمائندگی کے باوجود عوام کو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے۔ نمائندے اور بیروکریسی اپنی ذمہ داری پوری طرح سر انجام نہیں دے رہے۔ مظاہرین نے حکومت اور ایس ایچ ڈی او کو 15 مئی تک کا الٹی میٹم دیا ہے ۔ اگر 15 مئی تک کام شروع نہیں کیا گیا تو بھر پور احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ جس کے ذمہ دار حکومت اور سیاسی نمائندے ہونگے۔

جلسے سے پی پی رہنما اور سابق ناظم امیراللہ، پی پی پی سب ڈویژن مستعوج کے صدر ابولائیث، سابق استاد حاجی بلبل امان، سید سردار حسین، جنرل کونسلر عارف اللہ، اسلم شیروانی، وی سی ناظم شہزادہ منیر اور یوتھ کونسلر انیس الرحمن نے خطاب کیا۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget