10 مئی، 2016

ارندو چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث گرفتار، حملے میں سکاوٹس سمیت 32 اہلکار شہید ہوگئے تھے



پشاور (ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک 10 مئی 2016) 27 اگست 2011 میں چترال کے ارندو چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے نماز فجر کے وقت حملہ کرکے 32 اہلکاروں کو شہید جبکہ کئی کو زخمی کردیا تھا۔ نماز فجر کے وقت افغانستان سے آئے 100 سے زائد دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔ دہشت گرد گروہ کا تعلق تحریک طالبان مولا فضل اللہ گروپ سے تھا۔

اس وقت کے آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق اس حملے میں 20 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے، اور کہیں یہ تعداد 10 بتائی جاری رہی تھی۔ ملٹری اسٹیٹمنٹ میں 25 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کردی گئی تھی۔ جن میں سے 16 کا تعلق چترال سکاوٹ، 4 اہلکار لیویز فورس یا بارڈر فورس سے تھا۔ تاہم اس وقت کے ڈی سی او چترال رحمت وزیر کے مطابق شہداء کی تعداد 28 تھی۔ میڈیا اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ تعداد 40 سے بھی زائد تھی۔ تاہم اس تعداد کی کوئی آفیشل تصدیق نہیں آسکی تھی۔ 

حال ہی میں کاونٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ مالاکنڈ ڈویژن نے کاروائی کرکے اس حملے میں ملوث 3 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اے ٹی ڈ ملاکنڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈپارٹمنٹ کو اطلاعات موصول ہوئیں تھیں کہ مذکورہ 3 دہشت گرد اپر دیر کے داروزہ کے علاقے میں چھپے ہوئے ہیں، جس پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ چترال ارندو چیک پوسٹ اور اپر دیر میں مسجد پر خود کش حملے میں بھی ملوث ہیں جس میں 33 افراد جاب بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

1 تبصرہ:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget