مئی 17, 2016

چودہ ماہ بعد چرون کے بہادر اللہ کی گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا، دوست نے قتل کا اعتراف کرلیا

 

چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 17 مئی 2016 ) چرون کے بہادر اللہ 14 ماہ پہلے لاپتہ ہوگئے تھے۔ دو دوستوں کے ہمراہ قاقلشٹ میں گھوم پھیر کر کوارغ سے پہلے کاراک کے مقام پرلاپتہ ہوگیا تھا۔ متوفی کی گاڑی وہاں روڈ سائیڈ پر کھڑی ملی تھی لیکن بہادراللہ کا کوئی پتہ نہ تھا۔ بہادر اللہ ٹیکسی ڈرائیور تھا اور 14 ماہ پہلے وقوعہ والے دن دوستوں کے ہمراہ قاقلشت میں گھوم پھیر کر کڑاک آئے۔ جہاں دوست سے کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ معمہ 14 ماہ تک کسی کو پتہ نہ چل سکا تھا۔ اور ایک معمہ بن کر رہ گیا، متوفی کے والد اتنے شریف نکلے کہ بیٹے کے دوستوں پر شک کرنا گناہ سمجھا۔ ورنہ پولیس اُسی وقت یہ حقیقت ان سے اگلوا دیتی۔

بحرحال اب یہ گتھی سلج گئی ہے۔ بہادراللہ ولد میر افسرخان ساکنہ چرون کے دوست مستنصر احمد ولد جمشیداحمد (کوراغ) نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بہادر کو قتل کرکے دریا میں پھینک دیا تھا۔ 


تفصیلات کے مطابق بونی تھانے کے کے ایس ایچ او عتیق الرحمن نے ڈی پی او چترال آصف اقبال کی ہدایت پر ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے بہادر کے دوست مستنصر احمد کو دائرہ تفتیش میں شامل کرکے کیس کی چھان بین شروع کردی۔ تفتیش کے دوران مستنصر احمد ولد جمشید احمد نے یہ لرزہ خیز انکشاف کیا کہ اس نے اپنے دوست بہادر اللہ کو قتل کرکے اس کی لاش دریا میں پھینک دی تھی۔ اعتراف جرم کے بعد بونی تھانہ نے مجرم کے خلاف زیردفعہ 34/302 کے تحت 2016/05/14 کو مقدمہ درج کرکے ملزم کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، مستنصر احمد نے مجسٹریٹ کے سامنے بھی اقبال جرم کیا۔ عدالت نے ملزم مستنصر احمد کا بیان قلم بند کرکے جوڈیشنل ریمانڈ پر اسے جیل بھیج دیا۔


1 تبصرہ:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget