13 مئی، 2016

چالیس ہزار آبادی پر مشتمل گرم چشمہ کا سڑک برساتی نالے میں طغیانی کی وجہ سے روزانہ بند رہتا ہے۔ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا۔



چترال(گل حماد فاروقی) چالیس ہزار آبادی پر مشتمل گرم چشمہ کا سڑک دروشپ کے مقام پر برساتی نالے میں طغیانی کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ صبح کے وقت پانی کم ہونے کی وجہ سے اکثر گاڑیاں گرم چشمہ یا چترال جاتے ہیں مگر دوپہر کے بعد پہاڑوں پر پڑی ہوئی برف پگھلنے کی صورت میں اس نالے میں پانی کی سطح بلند ہوکر طغیانی کی صورت احتیار کرتی ہے جس کی وجہ سے صبح آئے یا جانے والی گاڑیاں دونوں جانب پھنس کر رہ جاتی ہے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے علاقے کے ایک سماجی کارکن نے کہا کہ اس نالے پر سابق صوبائی وزیر سلیم خان کے ٹھیکدار بھائی نے پُل بنایا تھا مگر اس پُل کی نہ تو اونچائی تھی نہ اس کی دونوں جانب حفاظتی دیوار بنایا گیا تھا اور شائد حسب معمول اس کی میٹرئیل بھی معیاری نہ ہوگی اسلئے پچھلے سال سیلاب کی پہلی ریلی سے یہ پُل تبا ہ ہوا اور اب لوگ صبح تو گرم چشمہ جاتے ہیں مگر شام کو واپس نہیں آسکتے اسی طرح گرام چشمہ سے آئے ہوئے لوگ چترال سے واپس اپنے گھر نہیں جاسکتے۔

مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کیا کہ یہ تباہ شدہ پُل غلط طریقے سے تعمیر کیا گیا تھا اور ٹھیکدار کو صوبائی وزیر کی اشیر باد حاصل ہونے کی وجہ سے محکمہ مواصلات C&W نے بھی ان کی نگرانی نہیں کی اور ان کا بل پاس کیا تاہم پل کی غلط تعمیر کی وجہ سے سیلاب کی پانی یہاں رک گئی اور اس نے پورے بستی کو لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے یہ علاقہ مکمل تباہ ہوا اور اس پُل کی بروقت نگرانی ہوتی اور یہ انجنئیرنگ کے اصولوں کے مطابق اونچائی پر بنایا جاتا تو شائد سیلاب کا پانی یہاں نہ رکتا اور اس کے نیچے سے بہہ کر نہ صرف یہ پل بچ جاتا بلکہ آس پا س کی آبادی بھی بچ جاتی مگر پل کی اونچائی ہی نہں تھی جس کی وجہ سے 

نہ صرف اس پل نے سیلاب کی پانی کو روک لیا بلکہ دیگر نقصانات اور آبادی کی تباہی کا بھی باعث بنا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نالے میں روزانہ دوپہر کے بعد گاڑیاں پھنس جاتی ہیں اور لوگ اسے بڑی مشکل سے یا تو نکال لیتے ہیں یا پھر اگلے صبح تک پانی کی سطح کم ہونے کا انتظار کرتا ہے۔

مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کیا کہ ضلعی انتظامیہ جشن چترال منارہے ہیں جس پر لاکھوں روپے کا فنڈ خرچ ہورہا ہے جبکہ چترال کو سیلاب اور زلزلے کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے عوام نہایت پریشان ہیں اور انتظامیہ کو عوام کی مشکلات کا احساس ہی نہیں ہے۔

گرم چشمہ کے لوگوں نے یہ بھی شکایت کیا کہ یہ سڑک سابق صوبائی وزیر اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کا حلقہ نیابت ہے اور ان کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود بھی گرم چشمہ کا تباہ شدہ سڑک اور اس پر بہنے والے پُل ابھی تک دوبارہ تعمیر نہ ہوسکے جس کی وجہ سے امسال گرمی کی موسم میں یہ سڑک ایک بار پھر تباہ ہوکر لوگوں کا رابطہ منقطع ہوجائے گا۔

گرم چشمہ کے عوام نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک پر کاغذوں میں خرچ ہونے والی کروڑوں روپے کی فنڈ کی تحقیقات کی جائے اور اس کی دوبارہ بحالی کیلئے فوری طور پر فنڈ ریلیز کی جائے نیز عوام یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سڑک میں 22کروڑ روپے کی مبینہ غبن کی بھی تحقیقات کی جائے جس کی نشان دہی ایک غیر مقامی ٹھیکدار نے کیا کہ آیا واقعی اس میں 22 کروڑ روپے کا غبن ہوا ہے یا نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget