جون 24, 2016

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو (ملئیے #چترال کے ہونہار طالب سے) : تحریرطاہر شادان



چلئے آج ایک ایسے طالب علم سے آپ کو ملاتے ہیں جس نے میٹرک کے حالیہ امتحان میں چترال بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ 

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جی ہاں اورغوچ چترال سے تعلق رکھنے والا اس باہمت اور باصلاحیت طالبعلم نے میری معلومات کے مطابق چترال کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار سے زائد نمبر حاصل کرکے ایک منفرد اور شاندار اعزاز اپنے نام کر لیا ہے (ممکن ہے اس سے پہلے بھی کسی نے اسے زیادہ نمبر حاصل کیا ہو لیکن میرے علم میں نہیں اگر واقعی میں کسی نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہو تو معذرت چاہتا ہوں) 
اورغوچ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک باہمت طالب علم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر کسی  کے اندر آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو اور جس کو اپنے اوپر اعتماد ہوتو غربت اور کم دستی اس کے ارادوں کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے نصیر احمد ولد ولی احمد بچپن میں ہی باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہوگئے تھے اس کے باوجود اس نے غربت اور کم دستی کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور عزم و ہمت اور بہادری کے ساتھ سنگین حالات کے ساتھ لڑتا رہا اس نے نہ غربت کی پرواہ کی اور نہ شفقت پدری سے محرومی کو اپنے عزائم پر حاوی ہونے دیا نصیر احمد نے مسلسل محنت اور لگن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور  بلا آخر پورے چترال میں سب سے نمایاں نمبر حاصل کرکے چترال کے تمام طالب علموں کو یہ پیغام دیا کہ 

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے 
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے

بروز پبلک سکول کے طالبعلم نصیر احمد نے اپنی محنت اور ان تھک کوشش سے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرکے جہاں ہم سب کا  سر فخر سے بلند کر دیا ہے تو وہاں پر ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ معاشرے میں اگر ایسے ہیرے دستیاب ہو تو ان کی حفاظت نگہبانی کے ساتھ ساتھ ان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا  بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے قیمتی ہیرے معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوکر زنگ آلود ہو جائے اور پھر اپنی قیمت کھو بیٹھے ایسے ہیرے تو پورے معاشرے کی توجہ کا مرکز ہونا چاہئے عموما اس طرح کے باصلاحیت بچے فرسٹ ائیر اور سکینڈ ائیر میں بھر پور توجہ اور رہنمائی کے محتاج ہوتے ہیں ان دو سالوں میں بہت سارے باصلاحیت بچے عام طور پر مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقصد اصلی سے ہٹ جاتے ہیں اور بغض بچے غلط ماحول کا حصہ بن کر اپنی تمام تر صلاحیتوں سے محروم ہو کر معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ نصیر احمد جیسے ہیروں کو زنگ لگنے سے بچانے کے لئے ہمیں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے جس طرح نصیر احمد نے اپنی قابلیت کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا  ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ جس بچے نے اپنی محنت اور لگن سے اس مقام تک رسائی حاصل کی ہے اس کو وہاں سے آگے لے جانے اور ضائع ہونے بچانے کے لئے بحیثیت ایک ذمہ دار قوم ہمیں کیا کرنا چاہیے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ ایسے باصلاحیت اور ہونہار بچوں کو کار آمد بنانے کے لئے ہمیں چاہیے کہ جہاں ان کو رہنمائی کی ضرورت ہو وہاں ہم ان کی درست سمت میں رہنمائی کرے اور جہاں ان کو مالی مشکلات کا سامنا وہاں ان کے ساتھ بھرپور مالی تعاون کرے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت نصیر احمد ہماری توجہ اور تعاون کا حقیقی معنوں میں مستحق ہے ظاہر بات ہے کہ باپ کے سایہ شفقت سے محروم اورغریب گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نصیر احمد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے بے پناہ مسائل کا سامنا ہوگا چترال کے تمام اہل ثروت اور ذمہ دار حضرات اگر اس ہونہار بچے کی طرف توجہ دے تو یہ بچہ مزید کامیابیاں سمیٹ کر پورے ملک میں ہمارے لئے سرمایہ افتخار بن سکتا ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر عوامی نمائندگان اور تعلیم کے میدان میں کام کرنے این جی اوز کو اس وقت آگے بڑھ کر نصیر احمد کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہئے تاکہ اس قیمتی ہیرے کو زنگ لگنے سے بچا کر وہاں تک پہنچایا جا سکے جہاں اس کی مناسب قیمت لگ جائے

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget