3 جون، 2016

چترال میں سیلاب اور زلزلہ زدہ علاقے بحالی کے منتظر

 

کرٹیسی بی بی سی اردو

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن علاقے میں تعمیر نو اور بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے جس کے باعث بیس کے قریب وادیاں کسی نہ کسی حد تک بدستور مرکزی سڑکوں سے کٹی ہوئی ہیں۔

قدرتی حسین وادیوں پر مشتمل ملک کے شمال میں واقع پہاڑی ضلعے چترال میں گذشتہ سال جون میں تباہ کن سیلاب آئے تھے جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ سیلاب سے سب زیادہ نقصانات اپر چترال کے علاقوں میں ہوا تھا جہاں کئی اہم سڑکیں اور پل پانی میں بہہ جانے سے کئی ماہ تک سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت معطل رہی تھی۔

تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سال گزرجانے کے باوجود بھی وادی کے بیشتر سیلاب زدہ مقامات پر تعمیر نو اور بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے جس سے مقامی باشندوں کے مشکلات مزید بڑھے ہیں۔

چترال سے رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے تقریباً بیس کے قریب وادیاں ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بدستور کسی نہ کسی حد تک مرکزی سڑکوں سے کٹے ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اپر چترال کی وادیوں گرم چشمہ، کریم آباد، کیلاش، بمبورت، رنگور ، دمین ، کولسون، ریچ ویلی اور اس طرح مستوج ڈویژن کے بیشتر مقامات پر سڑکیں اور پل بدستور تباہ حالت میں ہیں اور یہاں کے لوگ یا تو اپنی مدد اپ کے تحت سڑکوں کی بحالی میں لگے ہوئے ہیں یا پھر پیدل راستوں سے جانے پر مجبور ہیں۔
ان کے مطابق ’جن علاقوں میں حکومت کی طرف سے سڑکیں یا پل عارضی طورہر بحال کئے گئے ہیں وہاں بھی اگر دوبارہ تیز بارش ہوتی ہے یا معمولی سیلاب آتا ہے تو بنیادی ڈھانچہ اس قابل نہیں کہ زیادہ شدت کو برداشت کرسکے۔‘
رکن قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک کے سال کے دوران ضلعے میں پندرہ فیصد بحالی کا کام بھی نہیں ہوا ہے جس سے علاقے کے لوگ سخت مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔


اپر چترال کی وادیوں گرم چشمہ، کریم آباد، کیلاش، بمبورت، رنگور ، دمین ، کولسون، ریچ ویلی اور اس طرح مستوج ڈویژن کے بیشتر مقامات پر سڑکیں اور پل بدستور تباہ حالت میں ہیں


انہوں نے صوبے میں تین سالوں کے دوران استعمال نہ ہونے والے ترقیاتی فنڈز کے اعداو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 2013 اور 2014 میں 97 ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوئے، 2014 اور 2015 میں 137 ارب روپے ضائع ہوئے اور رواں سال 160 ارب روپے عدم استعمال کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’جب حکومت پیسہ ہی خرچ نہیں کرتی تو عوام کےمسائل کیسے حل ہوں گے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ملک بھر میں ہونے والے تباہ کن زلزلے کے باعث چترال کا ضلع بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔ زلزلے کی وجہ سے سینکڑوں مکانات تباہ ہونے کے علاوہ جانی نقصانات بھی ہوئے تھے۔

شہزادہ افتخار الدین کے بقول چترال میں حکومت کی طرف سے زلزلہ متاثرین میں تقریباًدو ارب تیس کروڑ کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے تاہم پچاس ہزار کے قریب مزید متاثرین نے امداد کےلیے درخواستیں دی ہوئی ہیں جن کےلیے ساڑھے تین ارب روپے کی اضافی رقم درکار ہوگی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget