18 جون، 2016

اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ کسی نے زبردستی نہیں کی، کیلاش لڑکی رینہ کا بیان

چترال (ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک) کیلاش لڑکی رینہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔ 14 سالہ لڑکی رینہ کے مسلمان ہوجانے کے بعد کیلاش قبیلے کے لوگوں نے الزام لگا یا تھا کہ رینہ کو زبردستی مذہب تبدیلی کروایا گیا ہے۔ لیکن جعمہ کے روز عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے رینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس پر کسی نے مذہبت تبدیل کرنے کے لئے زبردستی نہیں کی بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ اس واقعے کی تصدیق چترال کے ڈپٹی کمشنر(ڈی سی) اسامہ وڑائچ نے بھی کی ہے۔

جمعرات کے دن 16 جون کو وادی کالاش کے علاقے بمبوریت میں کالاش قبیلے اور مسلمان کمیونٹی کے سیکڑوں افراد کا کیلاش لڑکی رینہ کے تبدیلی مذہب کے معاملے پر خطرناک تصادم ہوگیا تھا، اگر پولیس بروقت نہ پہنچتی تو معاملہ بہت آگے تک جاسکتا تھا لیکن پولیس پہنچی اور مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے تصادم شدت اختیار کرنے سے بچ گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کالاشی لڑکی رینہ نے اپنا گھر چھوڑ کر ایک مقامی مسلمان لڑکے سے شادی کرکے اس کے گھر اسلام قبول کیا تھا۔

روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق کالاش میں سرگرم سماجی رہنما لیوک رحمت نے بتایا کہ 9 ویں جماعت کی طالبہ مذکورہ لڑکی کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس بات کا احساس ہوا کہ شاید اس نے غلطی کردی ہے، جس کے بعد وہ اپنے گھر واپس چلی گئی۔

لیوک کے مطابق بعد ازاں گاؤں کے رہائشی جمع ہوئے اور انھوں نے لڑکی کے رشتے داروں پر الزام لگایا کہ وہ اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور اسے دوبارہ مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، جس کے بعد مسلمان کمیونٹی اور کالاش قبیلے کے لوگوں میں تصادم ہوگیا۔

دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ کالاش قبیلے کے لوگوں کا خیال تھا کہ مذکورہ نوعمر لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

بعدازاں جمعہ 17 جون کو چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائچ اپنے عملے ساتھ وادی چترال پہنچے اور کالاش قبیلے اور مسلمان کمیونٹی کے عمائدین کا ایک جرگہ بلوایا۔

اسامہ وڑائچ نے ڈان کو بتایا کہ جرگے میں اس معاملے پر مکمل بحث کی گئی اور قبیلے نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لڑکی کا بیان حتمی ہوگا اور اسے قبول کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے لڑکی کو چترال ٹاؤن منتقل کردیا اور اسے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر اسامہ ورائچ کے مطابق لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اسے کسی نے بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا اور اس نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا تھا۔

اسامہ کا کہنا تھا کہ لڑکی کے اہلخانہ اور کالاش قبیلے کے افراد نے لڑکی کے بیان کو قبول کرلیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، 'اب یہ لڑکی پر منحصر ہے کہ وہ اپنے کالاشی خاندان کے ساتھ رہے گی یا دیگر رشتے داروں کے ہمراہ۔

اسامہ وڑائچ نے مزید بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ نوجوانوں میں اسلام قبول کرنے کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے قدیم اور معدوم ہوتے کالاش قبیلے کی روایات کو بچانے کے لیے سماجی کارکنوں کی جانب سے مہم چلائی جارہی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget