جولائی 9, 2016

چترال کی تعمیر نو کے لئے 10 ارب روپے درکار ہیں: ڈی سی او چترال : چترال پر مرکزی حکومت کی خاص توجہ ہے: مقام

 


پشاور/ چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 9 جولائی 2016) سیلاب سے تباہ ہونے والے مواصلاتی نظام کی تعمیر نو کے لئے چترال کی ضلعی انتظامیہ نے حکومت سے 10 ارب روپے مانگ لئے ہیں۔ ڈی سی او چترال اسامہ وڑائچ نے وزیراعظم کے مشیر امیرمقام کے دورہ چترال کے دواران بریفینگ دیتے ہوئے مطالبہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ امیر مقام وزیر اعظم کی ہدایت پر چترال کے سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ 

ڈی سی او اسامہ وڑائچ کے مطابق چترال کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لئے 16 ارب روپے درکار ہیں۔ اسامہ نے کہا کہ حکومتی املاک جیسےسڑکوں، پلوں اور سکول وغیرہ کی عمارتوں کی تعمیر کے لئے 10 ارب روپے چاہئیں۔ جبکہ 6 ارب روپے ذاتی املاک جیساکہ گاوں کے اندر گلیوں، سڑکوں، چھوٹے چھوٹے پلوں وغیرہ کی مرمت اور تعمیر نو کے لئے درکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ابھی تک صرف 744 ملین یعنی 7 کروڑ 44 لاکھ روپے دیئے ہیں۔

امیرمقام نے کہا کہ لواری ٹنل ایک بڑا مسئلہ تھا، اب اسے مزید کسی تاخیر کے مکمل ہوجانا چاہئے۔ میاں نواز شریف منصوبے کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹنل کے دونوں اطراف کی سڑکوں، گرم چشمہ اور بمبوریت روڈ وفاقی حکومت کے منصوبوں میں شامل کئے جائیں گے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے آمدورفت کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

انہوں نے چترال کے ممبران صوبائی اسمبلیوں پر زور دیا کہ وہ ضلع کے تباہ شدہ پلوں کی تعمیر نو کے لئے مختص کئے گئے 250 ملین روپے کے منظور شدہ فنڈ کو جاری کروانے کے لئے وفاقی حکومت پر زور دیں۔ جس کا 50 ملین ابھی تک دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی کوشش کرکے یہ فنڈ ریلیز کروادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گولین گون ملک سے بجلی کے بحران کو کم کرنے کے لئے ایک اہم منصوبہ ہے اسلئے بھی مرکزی حکومت چترال کے مسائل پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ اس موقع پر ایم این اے افتخار الدین، ایم پی اے سلیم خان، بی بی فوذیہ اور ضلعی ناظم مغفرت شاہ بھی موجود تھے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget