29 جولائی، 2016

کیا لواری ٹنل میں کبھی روشنی کی امید ہے؟ 41 سال سے زیرتعمیر منصوبے کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں: تحریر افسرخان بیگال

 

کیا لواری ٹنل میں کبھی روشنی کی امید ہے؟ 41 سال سے زیرتعمیر منصوبے کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں: تحریر افسرخان بیگال

لواری ٹنل کے خیال کا کریڈٹ بلا شبہ اتالیق، جعفرعلی شاہ کو جاتاہے جنہوں نے 1972 کے دوران قومی اسمبلی میں لواری ٹنل کا تصور پیش کیا تھا۔ ستمبر1975 میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو نے لواری ٹنل منصوبے پر کام کا افتتاح کیا لیکن چترالی عوال کی بدقسمتی سے 1977 میں ضاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تخہ الٹ دیا اور اقتدار پر قابض ہوگئے اور آنے والی حکومت نے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ کرکے اس پر کام روک دیا گیا کیونکہ حکومت کی ترجیحات میں لواری ٹنل اور چترال شامل نہیں تھا۔ 1976 سے لیکر 2005 تک آنے والی حکومتوں کو چترالی عوام کی مشکلات نظر نہ آئیں، لواری ٹنل منصوبے کو کسی نے پیسے کا ضیاع قرار دے دیا تو کسی نے ٹنل کو چوہوں کے لئے بل تعمیر کرنے سے تمثیل دے دی۔۔۔۔۔ 



سن 2005 میں چترال کی عوام کی قسمت ایک بار پھر جاگ گئی۔ اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے لواری ٹنل منصوبے پر کام کا آغاز کردیا۔ مشرف نے منصوبے کی تکمیل کے لئے5 سال کا ہدف مقرر کردیا اور مشرف دور میں ٹنل پر کام انتہائی سرغت کے ساتھ چل پڑا اور یوں لواری ٹنل کی کھدائی مشرف دور میں ہی 2009 میں مکمل ہوئی۔ 

چترال کے عوام کی قسمت ایک بار روٹھ گئی اور آنکھیں بند کردی۔ مشرف کا دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو لواری ٹنل منصوے پر کام روک دیا گیا۔ لواری ٹنل کا سرنگ چونکہ مشرف دور میں مکمل ہوگیا تھا اس لئے ٹریفک گزر سکتی تھی، یوں مشرف کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت 10-2009 میں لواری ٹاپ بند ہونے کی وجہ سے ٹنل کو عارضی طور پر ٹریفک کے لئے پہلی بار کھول دیا گیا، اور چترالی عوام پرویزمشرف کو دعائے دیتے ہوئے لواری ٹنل آنے اور جانے لگے۔

پرویزمشرف کے چلے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لواری ٹنل کے فنڈز پر ڈاکہ ڈال دیا، اور لواری ٹنل کے فندز اپنے آبائی حلقے ملتان لے گیا۔ یہ بات پاکستان کی عدالت عالیہ میں بھی ثابت کردی گئی تھی۔ رضا گیلانی قوم کی بد دعاوں کی تاپ نا لاسکے اور 2012 میں وزارت عظمیٰ کی کرسی سے کک مار کر باہر نکال دیئے گئے۔۔ رضا گیلانی کے جانشین کے طور پر صدر زارداری نے راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا، موصوف نے بھی کہاں بخشنی تھی۔ اشرف نے بھی لواری ٹنل کے فنڈز پر ہاتھ صاف کردیا اور اپنے حلقے میں اگلے الیکشن کے لئے ووٹس خرید لئے۔

راجہ پرویز اشرف کا تعلق گجر خان سے ہے۔ بروز جمعرات دسمبر 2013 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف لواری ٹنل، دیامیر بھاشا ڈیم اور ہائیر ایجوکیشن کے منصوبوں کے 25 ارب روپے اپنے 9 ماہ کی مدت وزارت میں اپنے آبائی حلقے میں لگانے کے خلاف کیس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔ موصوف نے اپنے دور اقتدار جون 22، 2012 سے مارچ 16، 2013 کے دوران لواری ٹنل منصوبے کے فنڈز اپنے حلقے میں لگادیئے۔ اس وقت وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ اس کی مزاحمت کی تو جناب نے انہیں وزارت سے ہی برخاست کردیا تھا۔ حقائق کے منظر عام پر آنے کے باوجود چترال سے منتخب ایم پی اے پیپلز پارٹی سلیم خان نے ان حقائق کو افواہ قرار دیتے رہے اور چترالی عوام اور لواری ٹنل کے حق میں اپنی حکومت اور وزیراعظم کے خلاف ایک لفظ نہ بولے۔

سپریم کورٹ نے راجہ پرویز اشرف کے 9 ماہ کے دور میں اپنے حلقے میں لگائے جانے والے 52 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کو غیر قانونی قرار دیکر راجہ پرویز اشرف کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قومی خزانے سے جاری ہونے والے 52 ارب روپوں میں سے 47 ارب کو جو کہ راجہ پرویز اشرف نے اپنے آبائی حلقے گجر خان میں لگائے تھے غیر قانونی قرار دے دیا۔ یہ فنڈز یوسف رضا گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، عبدالقادر گیلانی، مونس الہیٰ، چوہدری شجاعت حسین، پرویز الہیٰ، وجاہت حسین، شیخ وقاص اور سندھ کے شیراز فیلمی کے حلقوں میں غری قانونی طور پر خرچ کئے گئے تھے۔۔۔۔

لواری ٹنل کی لمبائی 8.5 کلومیٹر ہے۔ کام کی سست رفتاری اور غیر شفافیت کی وجہ سے منصوبے پر اب تک تین گنا زیادہ لاگت آچکی ہے۔ اور اب منصوبہ 2017 تک 27 ارب روپے کی لاگت میں مکمل ہوجائے گا۔ منصوبے کی سرپرستی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کر رہی ہے اور تعمیر کوریائی کمپنی سامبو کنسٹرکشن کے ذمے ہے۔ 

پاکستان کو بنے 69 سال گزرگئے۔ چترال رقبے کے لحاظ سے خیبرپختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ یہاں کے جفاکش عوام کے گزر بسر کا دارومدار زراعت پر ہے۔ معاشی لحاظ پسماندہ علاقہ ہے۔ 1968 تک چترال ایک آزاد ریاست تھی۔ 1969 میں چترال کو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے زیر انتظام لا کر ضلع چترال کا درجہ دیا گیا۔ عوام چترال پاکستان میں شامل ہونے سے پہلے بھی ظالم حکمرانوں کے مظالم برداشت کرتے رہے ہیں اور اب بھی چترالی عوام گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں۔ 

لواری ٹنل وہ واحد امید ہے کہ جس کے بننے سے شاید چترالی عوام کے دکھوں کا مداوا ہو۔ شاید لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد چترال کو وسطی ایشیائی ممالک سے ملایا جائے، شاید شندور پاس سے گلگت تک لے جائے تاکہ چترال کی تجارت سنٹرل ایشیا اور چین کے ساتھ ممکن ہو۔ حکمران لواری ٹنل کو بچوں کو لولی پاپ دکھانے کے طرز پر استعمال کررہے ہیں۔ ووٹ دو ہم لواری ٹنل بنائیں گے۔ جس کی مثال تو ہمیں خیبرپختونخواہ میں ایک ترقی و تبدیلی پسند جماعت اور مرکز میں شیروں کی جماعت کے رویوں سے صاف مل رہی ہے۔ لواری ٹنل چونکہ مرکزی حکومت کے تحت ہے لہذا اس کے تعطل کی ذمہ داری بھی مرکز کی ن لیگ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کام کی رفتار سے صاف لگ رہا ہے کہ ن لیگ لواری منصوبے کو 2018 کے الیکشن کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے ہیں کیونکہ منصوبہ 2017 میں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اشاعت 29 جولائی 2016

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget