3 جولائی، 2016

اپڈیٹس تفصیلی رپورٹ: اُرسون سیلاب میں جان بحق افراد کی تعداد 42 ہوگئی، 18کی لاشیں نکال لی گئیں، 8 سیکیوریٹی اہلکار بھی شامل ہیں

 

تازہ اپ ڈیٹس: ٹائمز آف چترال: 3 جولائی 2016، رات 9 بجے تک: چترال کے علاقے اُرسون کے گائون پائیتاسون میں سیلابی ریلے بہہ کر جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 41 تک جا پہنچی۔ کے پی حکومت کے مطابق ابتک  41 افراد جان بحق ہوچکے ہیں۔ جن میں سے 18کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں باقی کی تلاش جاری ہے۔ پاک آرمی، چترال سکاوٹ اور دیگر اداروں کے ریسکیو اہلکار متاثرے علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے امداد کاموں کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر بھیج دیا ہے۔



آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 18 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں باقی کی تلاش جاری ہے۔

ادھر نگر کے مقام پر درائے چترال جھیل کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ کئی مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ علاقہ خالی کرالیا گیا۔ دریائے چترال میں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ سیلاب نے ایک مسجد، درجنوں مکانات اور سیکیوریٹی فورسز ایک چیک پوسٹ کو بھی بہا کر لے گیا۔ ڈی پی او چترال آصف اقبال کا کہنا ہے کہ جنوبی چترال میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ، سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 41 افراد لاپتہ ہیں جن میں 8 سکیورٹی اہلکار، ایک خاتون اور4 بچے بھی شامل ہیں۔ 

متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ نے بتایا تھا کہ سیلابی ریلوں میں 31 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جن میں سے آٹھ افراد کی لاشیں افغانستان کے علاقے سے ملی ہیں۔ لیکن بعد ازاں یہ تعداد بڑھ کر 42 تک جاپہنچی ہے۔ اس سے قبل انھوں سے سیلابی ریلوں میں کم از کم 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیوں تیزی سے جاری ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور اشیائے خورونوش فراہم کی جا رہی ہیں۔ علاقے میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا جارہا ہے ۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی جبکہ متاثرہ علاقے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات بھی پیش آرہی ہیں ۔ تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ 



سیلابی ریلے سے سکیورٹی فورسز کی ایک کا چیک پوسٹ بھی بہہ گیا ہے جس میں موجود آٹھ اہلکار لاپتہ اور چار زخمی ہیں۔ سیلاب کے بعد آنے والے ریلے سے 50 سے 70 مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں۔ علاقے میں مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا اور کئی علاقوں کا راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 

پولیس کے مطابق متاثرہ گاوں سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں ۔ ہفتہ کی رات اُرسون گاوں میں سیلابی ریلا مسجد میں داخل ہوگیا تھا جس سے دس نمازی بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں جبکہ 20 نمازی زخمی ہوئے ہیں۔ دورش کے علاقے میں ایک مکان سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ایک خانداد کی دو خواتین سمیت پانچ افراد تا حال لاپتہ ہیں ۔ 

مسلسل بارش اور سیلابوں کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے ریڈ الرٹ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں نے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو آپریشن کر کے چار زخمیوں کو سیلابی ریلے سے نکال کر ہسپتال پہنچادیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان کے مطابق پاک آرمی کے ریسکیو ٹیم کے جوان دروش کے قریبی علاقے اُرسون میں سیلاب تبا ہونے والے گاوں امدادی کارروائی میں حصہ لے رہی ہیں پاک آرمی نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو ڈی ایچ کیوہسپتال چترال میں منتقل کر دیا ہے جہاں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ پاک آرمی حالات کا جائزہ لے رہی ہے ہر قسم کے جانی اور مالی نقصان سے بچنے کے لئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔


وزیراعظم نواز شریف نے چترال میں سیلابی ریلے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو چترال میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے گورنر خیبر پختونخواہ کو فون کرکے حالات معلوم کئے۔ وزیراعظم نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر کی بھی دعا کی۔وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں لاپتہ افراد کی تلاش تیز کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ 

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چترال میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات کی روک تھام کو قومی سطح پر سنجیدگی سے لینے کی اشد ضرورت ہے، اللہ رب العزت وطن عزیز اور قوم کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے کی زد میں آنے والے شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کیلئے فکر مند ہیں، ایک بھی شہری کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ عمران خان نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی حکمت عملی نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی اور صوبائی حکومت کو فوری متحرک ہونے اور مقامی آبادی کے مکمل تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ 

خیبر پختونخواہ حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 3 لاکھ روپے امداد کس کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گورنر خیبر پی کے اقبال ظفر جھگڑا کو فون کیا اور چترال میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے وفاق کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔


چترال کے علاقے ارسون میں رات گئے سیلاب، جان بحق افراد کی تعداد 23 ہوگئی 


(تازہ اپ ڈیٹس) چترال کے علاقے ارسون کے گائون پائتاسون گول میں سیلاب سے ہلاک اور لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہوگئی۔ جن میں 4 بچے اور میاں بیوی بھی شامل ہیں۔ سیلاب نے مسجد اور متعدد گھروں کو بہا کر لے گیا۔ ادھر نگر کے مقام پر سیلابی ریلے نے درائے چترال کو روک رکھا ہے جس کے باعث درائے چترال جھیل کا منظر پیش کررہا ہے۔ دریا کے کنارے کئی گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ گھروں کو مکینوں سے خالی کرالیا گیا ہے۔ انخلا کا عمل جاری۔ مزید کئی گھر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ 



چترال کے علاقے ارسون میں رات گئے سیلاب، 17 افراد جان بحق 10 کی لاشیں نکال لی گئیں، متعدد افراد
 لاپتہ: پولیس 
چترال /دروش ( نمائندہ ٹائمز آف چترال 3 جولائی 2016) ہفتے کی شب پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب ارسون گائوں کے پائیتاسون گول میں سیلاب آگیا۔ سیلاب نماز تراویح کے دوران آیا۔ پائیتاسون گاون میں واقع مسجد کو بہا کر لے گیا۔ سیلاب اس وقت آیا جب لوگ نماز تراویح میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق 17 افراد واقعے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے ، جن میں سے 10 کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔ باقیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ رات ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشوایاں پیش آرہی ہیں۔ بڑے سیلابی ریلے نے نغر کے قریب دائے مستوج/چترال کو روک رکھا ہے جس کی وجہ سے دریائے چترال کی سطح بلند ہونا شروع ہوئی ہے اور دریا کے کنارے واقع کئی آبادیوں میں پانی گھس جانے کا خدشہ ہے۔ شام سے دروش اور اردگرد کے علاقوں میں بارش اور تیز ہواوں کا سلسلہ جاری ہے۔ راستے بند ہوجانے کی وجہ سے پولیس اور امدادی رضاکار متاثرہ گاوں تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ خبر جاری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget