جولائی 5, 2016

آصف زارداری اور اعتزاز احسن میں اختلافات شدید ہوگئے

 


اسلام آباد (ٹائمز آف چترال: مانیٹرنگ ڈیسک) آصف زارداری اور اعتزاز احسن میں اختلافات شدید ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن اور اعلیٰ قیادت کے مابین اختلاف پیدا ہوگئے ہیں۔ اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آجانا چاہئے جبکہ زارداری اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ اعتزاز کے اس بیان سے آصف زارداری اور بلاول زارداری ناراض ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق سینیٹر اعتزاز چاہتے ہیں کہ پارٹی عید کے بعد تحریک انصاف کے احتجاج میں کنٹینر میں شامل ہو۔ تاکہ نواز کی حکومت کو گرادی جائے یا نواز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جاسکے۔ جبکہ پی پی کی اعلیٰ قیادت چاہتی ہے کہ اس کے لئے قانونی چارہ جوئی کی جائے کنٹینر میں شامل ہوکر عمران خان کو کریڈت لینے کا موقع دینا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔

سینیٹر اعتزاز احسن کو عام طور پر پی پی کا قانونی معاملات میں اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرکے پنجاپ کے سابق گورنر لطیف کھوسہ کو وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاپ شہباز شریف، ایم این اے حمزہ شہباز اور کیپنٹن صفدر کے خلاف ایلیکشن کمیشن میں ناہلی کا ریفرنس دائر کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد لطیف کھوسہ جوکہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بھی ہیں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر 1000 صفحوں پر مشتمل ریفرنس تیار کیا۔ 

اعتزاز احسن کہنہ مشق سیاست دان ہیں انہں نے 1970 میں پیپلز پارٹی جائن کی تھی۔ اور 1977 کے جنرل الیکشن کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اس کے بعد وہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اضغر خان کی تحریک استقلال میں شامل ہوگئے تھے۔ اور 1986 میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے بعد وہ دوبارہ پی پی میں شامل ہوگئے تھے۔ 

2007 میں صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا، جس کے خلاف اعتزاز نے وکلاء تحریک چلائی۔ جبکہ ان کی جماعت کی اعلیٰ قیادت بے نظیر بھٹو یہ نہیں چاہتی تھی۔ تحریک کے ذریعے وہ چیف جسٹس کو بحال کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے، جس کی عوامی حلقوں کی جانب سے واہ واہ ہوئی تھی۔ لیکن ان کے اس تحریک کی وجہ بے نظیر بھٹو نے خود کو اعتزاز سے دور کردیا تھا۔ لیکن بے نظیر کی شہادت کے بعد وہ پی پی میں اپنی اعلیٰ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ 

کہا جاتا ہے کہ اعتزاز احسن نے آصف زارداری کو معزول ججز کو بحال کرنے کے لئے پریشیئر ڈال دیا تھا، اور نہ کرنے کی صورت میں برے نتائج کی دھکمی دی تھی۔ جسے شروع میں زاردی نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اور اعتزاز احسن کو یہ کہہ کہ وہ پرائیویٹ اجتماعات میں پارٹی کی قیادت کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کردی تھی۔ ججز بحالی کی تحریک کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں اعتزاز آگے آگے تھے اور افتحار چوہدری کے وکیل بھی تھے۔ ججز بحال ہونے کے بعد اعتزاز نے سارا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کی تھی۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget