27 جولائی، 2016

چترال کے ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں، ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی کمی


پشاور /چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 27 جولائی 2016)  چترال کے سرکاری ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں اور عملہ بھی ضرورت سے بہت کم ہے۔ چترال کے ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین نے حال ہی خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ اور وزیرصحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع چترال کے سرکاری ہسپتالوں میں دوائوں کی قلت اور عملے کی کمی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔  ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگرعملے کی کمی اور دوائیں نہیں ہیں۔ 
ایم این اے نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع چترال کے سرکاری ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں۔ بونی، دروش، گرم چشمہ یہاں تک کہ ضلع کے سب سے بڑے ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال میں بھی دوائوں اور عملے کی کمی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار خیبرپختونخواہ کے وزیرصحت شہرام تاراکئی سے ٹیلی فونک رابطے کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔  انہوں نے کہا کہ دروش ہسپتال کی صورتحال سب سے بد تر ہے۔ دور دراز کے علاقوں سے مریض ہسپتال آتے ہیں لیکن یہاں آکر ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ ہستپال میں نہ ڈاکٹرز موجود ہیں نہ دوائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ہسپتال کو سی کیٹیگری میں لے کر جانے کا اعلان تو کیا تھا لیکن ابھی تک اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ اس وقت ہسپتال میں 5 سے  7 ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے۔

ایم این اے نے کہا کہ تحریک انصاف کی سینیٹر سمینہ عابد ڈی ایچ کیو ہسپتال کے دورے کے بعد ہسپتال کے افسوسناک صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ایم این اے نے چیف منسٹر اور وزیر صحت سے اپیل کی کہ ہسپتالوں کو فوری طور پر دوائیں فراہم کی جائیں کیونکہ سیلابوں کی وجہ سے ضلعے میں امراض میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget